کراچی (بیوروچیف) پاکستان سے باہر بیٹھ کر کارندوں کے ذریعہ کراچی میں بھتے کا نیٹ ورک چلانے والا گینگسٹر بہادر پی ایم ٹی مارا گیا۔تحقیقاتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ لیاری سے بھاگ کر ایران میں روپوش گینگسٹر بہادر پی ایم ٹی ایران میں قتل ہوا۔تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ بہادر پی ایم ٹی پر لیاری گینگ وار کے کردار فیصل پٹھان کو قتل کرانے کا بھی الزام تھا۔ بہادر پی ایم ٹی کے انٹر پول سے ریڈ وارنٹ جاری کرانے کے لئے کراچی پولیس نے خط بھی لکھے تھے لیکن یہ کارروائی مکمل نہیں ہوئی تھی۔اب اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ لیاری گینگ وار کا انتہائی مطلوب ملزم بہادر پی ایم ٹی ایران میں مارا گیا ہے۔اس کو لیاری کے عزیر بلوچ گروپ س کا اہم کارندہ سمجھا جاتا ہے۔بہادر پی ایم ٹی کی چابہار میں ہلاکت کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے بہادر پی ایم ٹی کو نامعلوم حملہ آوروں نے نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے پہلے اس کی ریکی کی تھی۔ریکی کے بعد بہادر پی ایم ٹی پر فائرنگ کی گئی۔بہادر پی ایم ٹی کا نام سی ٹی ڈی سندھ کی ریڈ بک کے نویں ایڈیشن کے صفحہ نمبر 130پر درج تھا۔ اس کو ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے لاتعداد جرائم کے پیچھے کارفرما ہستی سمجھا جاتا ہے۔ اب بھی اس کا کردار ایک بھتہ گروہ کے لیڈر کا تھا۔ وہ لیاری کے علاقے سنگولین سے جرائم کی دنیا میں سرگرم رہا۔ پھر 2013میں آپریشن کے بعد ملک سے فرار ہوگیا تھا۔ بہادر پی ایم ٹی کے بلوچستان لبریشن آرمی کے ساتھ مل کر جرائم کرنے کی بھی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔ گلبرگ میں تاجر سے 50لاکھ روپے بھتہ طلب کرنا اس کی آخری واردات تھی۔ بہادر پی ایم ٹی کی ہلاکت اور واقعے کی تفصیلات کی آزادانہ صحافتی ذرائع سے تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔




