حرمین شریفین کا تحفظ امت مسلمہ کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل (اداریہ)

حرمین شریفین کو غیر معمولی مذہبی’ روحانی اور تاریخی اہمیت حاصل ہے، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں خصوصی مقام رکھتے ہیں اور ہر مسلمان ان مقدس مقامات کے احترام اور سلامتی کو اپنا دینی فریضہ سمجھتا ہے۔ سعودی عرب کو حرمین شریفین کے باعث عالم اسلام میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے دفاع اور مقدس مقامات کی سلامتی سے متعلق معاملات پوری مسلم دنیا کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ ایسے حالات میں سعودی فوجی اتحاد کی جانب سے حرمین شریفین کے دفاع کے لیے متحد ہونے کا عزم علاقائی سلامتی’ مسلم ممالک کے باہمی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی کشیدگی’ مسلح تنازعات’ علاقائی رقابتوں اور سلامتی کے متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان اختلافات’ پراکسی تنازعات’ دہشتگردی اور جدید جنگی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے خطے کے امن کو متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرتے ہوئے امن واستحکام کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔ سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے حوثی ملیشیا سے منسوب حملوں اور کروز میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اتحادی فوج کے ترجمان نے حوثی ملیشیا کے ابہا انٹرنیشنل ائیرپورٹ’ نجران انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور جازان میں کنگ عبداﷲ انٹرنیشنل ائیرپورت کو نشانہ بنانے کے حملے کی ویڈیو دکھائیں۔ سعودی اتحادی فوج کے ترجمان نے حوثیوں کے ایک کروز میزائل کو بھی فضا میں روک کر تباہ کرنے کی ویڈیو بھی دکھائی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔ کونسل کے رکن ممالک نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں اور دھمکیوں کی بھی مذمت کی۔ سلامتی کونسل کی طرف سے جاری بیان میں تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہم متحد ہیں۔ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے متعدد ہوائی اڈوں’ تیل تنصیبات اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں کے حملے بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ حرمین شریفین کا تحفظ پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے دفاعی تیاری کے ساتھ سیاسی مکالمہ اور علاقائی مفاہمت بھی ناگزیر ہیں۔ اگر مسلم ممالک اپنے اختلافات کم کر کے مشترکہ مسائل پر توجہ دیں تو وہ نہ صرف اپنے مقدس مقامات کی سلامتی کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی معاشی اور سیاسی حیثیت میں بھی بہتری لا سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک دفاعی تعاون کو امن’ استحکام اور باہمی احترام کے اصولوں سے ہم آہنگ رکھیں۔ حرمین شریفین کا تحفظ ایک مقدس ذمہ داری ہے جس کی ادائیگی دانش مندانہ حکمت عملی’ مؤثر تعاون اور امن کے عزم سے ہی ممکن ہے۔ مسلم دنیا کا حقیقی اتحاد مضبوط بنانا ضروری ہے اور عالم اسلام کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں