صوفیائے عظام، اولیائے کرام کی تعلیمات پوری ملت کے لئے مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اشاعت اسلام اوردین مبین کی سر بلندی کا سہراانہی اولیائے کاملین کے سر ہے۔ جنہوں نے بھٹکی،لٹی۔پٹی اور بکھری انسانیت کو صراط مستقیم پر گامزن کیااور ان کے قلب وروح کوتسکین اور طمانیت بخشی اور انہیں تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر نور ایمان سے منور کیا۔ تبلیغ دین اورہدایت وراہنمائی سے انسانیت کواپنے افعال وکردار سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاحقیقی غلام بنایا۔اور ان کے قلوب واذہان میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمعیں فروزاں کیں جن سے انسانیت تاقیامت جگمگاتی اور منور ہوتی رہے گی۔تمام اولیا وصوفیا باکمال اورباتقلید ہیں لیکن میں جس عظیم ہستی کاذکر کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں کشف وروحانیت اور شریعت و ولایت کے حوالہ سے وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں میری مراد قدوة السالکین، انیس المشتاقین، شمس الاولیا اعلیٰ حضرت الشاہ محمد علائوالدین قادری، چشتی، جہانگیری، منعمی، شکوری قدس سرہ العزیز کی شخصیت ہے۔ولادت باسعاد ت۔ 1910 میں ہندوستان کے مشہور شہر لکھنومیں ہوئی۔ آپ کے والد گرامی کانام تاج الاولیا حضرت محمد عبدالشکور قادری، چشتی، جہانگیری رحمتہ اللہ علیہ تھاجو اپنے عہد کے ممتاز ترین اکابر میں شمار ہوتے تھے آپ کا وصال 31 جولائی 1955 کو ہوا آپ کا مرقد منور بستی جیون ہانہ فیروز پورروڈ لاہور میں مرجع خاص و عام ہے۔ تعلیم۔ شمس الاولیا اعلیٰ حضرت الشاہ محمد علائو الدین قادری، چشتی، شکوری قدس سرہ العزیز نے حصول علم کی ابتدا لکھنو (انڈیا) سے کی اور نصیر آباد (اجمیرشریف) انڈیا میں دینی ودنیوی علوم کی تکمیل ہوئی۔ تفسیر، حدیث،فقہ،منطق اور فلسفہ میں دستگاہ حاصل کرنے کے بعدشوق نے آپ کو طبابت کی تعلیم حاصل کرنے پرمجبور کیا۔ طبابت میں حکومت وقت کی طرف سے سند حاصل کرنے کے بعد اپنے حلقہ اثرمیں ”حکیم صاحب قبلہ” کی عرفیت سے پکارے جانے لگے۔ بیعت کا شرف۔۔ آپ کوبیعت کا شرف اپنے والد گرامی حضرت قبلہ الشاہ محمد عبد الشکور رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل ہے۔ آپ راہ شریعت، طریقت، سلوک اور معرفت میں جلد ہی ممتاز مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔خلافت واجازت۔۔25مارچ 1936میں بمقام نصیر آباد چھائونی(اجمیرشریف) انڈیا میں حضرت شاہ محمد عبدالشکور رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو اپنی نیابت کے لیے منتخب فرماکرخلافت کی عظیم ذمہ داری سونپ دی۔زندگی کا بڑا حصہ آپ نے نصیر آباد چھائونی میں گزارا۔ حضور غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین چشتی، اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کی ہمسائیگی آپ کے لیے ایک اعزاز ہے اور آپ کی خوشگوار یادیں اس سے وابستہ ہیں۔ بعد ازاں مسافرانہ ز ندگی آپ کا مقدر رہی قیام پاکستان کے بعد آپ اپنے والد گرامی کے ہمراہ عروس البلاد لاہور وارد ہوئے۔ آخری منزل۔ 1955 میں والد گرامی کی وفات کے بعد آپ مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے اکتوبر 1967 میں ۔مستقل طور پر ککی نو تحصیل شورکوٹ شہر ضلع جھنگ تشریف فرما ہوگئے اور آخری دم تک یہیں رہے۔ اور یہیں مدفون ہوئے۔ تقریباً 1943 میں آپ نے اشاعت طریقت اور سلسلہ بیعت و تلقین کا آغاز فرمایا اس سلسلے میں آپ نے انتہائی جانفشانی سے دن رات محنت کی ،مخلوق خدا کی رہنمائی کو آپ نے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا اور اپنی ساری زندگی رضائے الہی کے حصول اور دین اسلام کو سر بلند کرنے کی کوشش میں گزار دی آپ نے لوگوں کے دلوں میں بڑے گہرے نقوش چھوڑے۔آپ کی ذات سے ہزاروں بندگان خدا کو ذات حق کا عرفان حاصل ہوا۔آپ کی ذات وہ آفتاب تھاجس کی ضیا سے ہزاروں گم کردہ راہ جادہ منزل تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے ۔پاکستان کے گوشہ گوشہ میں آپ کے ارادت مند اور عقیدت مند سینکڑوں کی تعداد میں ۔موجود ہیں۔ انتقال پرملال۔19جنوری 1970 بروز پیر آپ کا انتقال ہوگیا آپ دارالفنا سے دارالبقا کی طرف تشریف لے گئے۔ مرقد ۔ نور۔دربار عالیہ قادریہ جہانگیریہ، شکوریہ، علائیہ ککی نو شریف تحصیل شورکوٹ شہر ضلع جھنگ میں ہے جو آج بھی زیارت گاہ اہل نظر ہے۔ آپ کے انتقال کے بعد آپ کے بھانجے اور دامادبدرالاصفیا حضرت شاہ محمد عبدالباری بزمی قادری شکوری رحمتہ اللہ علیہ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے جانشین ٹھہرے آپ بھی 3جون1974 بروز پیر اس دنیا سے دارالبقا کی جانب کوچ کرگئے۔آپ کے وصال کے بعد آپ کے بڑے فرزند حضرت صاحبزادہ قبلہ الشاہ محمد نظام الدین قادری، چشتی شکوری، علائی مدظلہ العالی مسند آرا ہوئے اور اب تک بڑی کامیابی سے اپنے اسلاف کے مشن کو آگے بڑھارہے ہیں اللہ پاک ان کی عمر میں برکت دے’ وہ دینی وروحانی قدروں کی حفاظت میں اپنے اسلاف کی روایات کے امین ہیں۔ عرس مبارک شمس الاولیا اعلی حضرت الشاہ محمد علاالدین قادری، چشتی، جہانگیری، منعمی ابوالعلائی،شکوری قدس سرہ العزیز کا سالانہ عرس مبارک ہرسال اکتوبر میں ہوتا ہے گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی آپ کا عرس مبارک مورخہ 17,18اکتوبر2026 بروز ہفتہ، اتوار ۔دربار عالیہ قادریہ، جہانگیریہ، شکوریہ، علائیہ ککی نو شریف تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ میں زیرصدارت حضرت صاحبزادہ قبلہ الشاہ محمد نظام الدین قادری، چشتی، شکوری، علائی مدظلہ العالی منعقد ہورہا ہے۔جس میں ملک بھر سے علمائے کرام، مشائخ عظام، نعت خواں، شعرا کرام،قرااور قوال حضرات تشریف لارہے ہیں، عقیدت مندوں،محبین،متوسلین، سے ”منزل قرآن اور ذکر اذکار بزرگوں کے لیے بطور تحفہ” کے ساتھ شرکت کی درخواست ہے۔




