فیصل آباد کا اقبال اسٹیڈیم پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہاں بڑے بڑے ٹیسٹ میچز اور ون ڈے انٹرنیشنل ہوئے ہیں، لیکن 2اکتوبر 2026کا دن اس اسٹیڈیم کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر گیا۔اس دن پہلی مرتبہ اقبال اسٹیڈیم نے کسی بین الاقوامی خواتین کرکٹ میچ کی میزبانی کی۔ یہ اعزاز Rivaj Presents University of Lahore U19 Womens T20 Tri-Nation Series کو حاصل ہوا، جس میں پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی انڈر19خواتین ٹیموں نے حصہ لیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB)کے شیڈول کے مطابق یہ ٹورنامنٹ 2سے 16اکتوبر 2026تک فیصل آباد میں کھیلا گیا اور اس میں کل 10میچز شامل تھے۔ تمام میچز اقبال اسٹیڈیم میں ہی رکھے گئے اور ہر میچ صبح 11بجے شروع ہوتا تھا۔ یہ نہ صرف فیصل آباد کے لیے بلکہ پاکستان میں خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک بہت بڑا قدم تھا۔ ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب بھی فیصل آباد کی ثقافت کے مطابق رکھی گئی۔ ٹرافی کی رونمائی تاریخی گھنٹہ گھر چوک پر کی گئی جہاں تینوں ٹیموں کی کپتانوں نے شرکت کی، اور پھر ٹرافی کو ایک ریلی کی شکل میں اقبال اسٹیڈیم لایا گیا۔ اس سیریز کا فارمیٹ کچھ اس طرح تھا کہ ہر ٹیم نے ایک دوسرے کے خلاف تین تین میچز کھیلے پاکستان کی کپتان فیضہ فیاض جنہوں نے ہوم کراڈ کا فائدہ نہ اٹھایا اور چھ میں سے پانچ میچز ہار کر فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئیں انھوں نے مجموعی طور پر 25رنز بنائے-بنگلہ دیش کی کپتان سعدیہ اسلام نے پاکستان میں سہولیات کو سراہا جبکہ سری لنکا کی کپتان چامودی پربودھا (Chamudi Prabodha)نے اسے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اہم موقع قرار دیا پی سی بی نے 17ستمبر 2026کو میچ آفیشلز کا اعلان کیا۔ آئی سی سی انٹرنیشنل پینل آف امپائرز میں شامل پاکستان کی سلیمہ امتیاز نے بھی اس ٹورنامنٹ میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔ یہ خود خواتین امپائرنگ کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم تھا۔ پی سی بی نے اسے جدید انداز میں نشر کیا۔ پاکستان میں Tapmadاور Tamasha پر لائیو اسٹریمنگ، فائنل PTV Sportsپر براہ راست، بنگلہ دیش میں Tapmadپر، اور باقی دنیا کے لیے PCBکے یوٹیوب چینل پر دستیاب تھا۔ افتتاحی میچ 2اکتوبر 2026 بروز جمعتہ المبارک کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلا گیا، اور اسی میچ نے تاریخ رقم کی کہ اقبال اسٹیڈیم میں پہلی بار خواتین کا بین الاقوامی میچ ہوا۔ بنگلہ دیش نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے117رنز 8وکٹوں پر بنائے۔ جواب میں پاکستان کی ٹیم 87رنز ہی بنا سکی اور بنگلہ دیش نے 30رنز سے فتح حاصل کی۔ اس میچ کی ہیرو نشیتا اختر نشی رہیں جنہوں نے 23 رنز بنائے اور 2وکٹیں 16رنز دے کر حاصل کیں اور پلیئر آف دی میچ قرار پائیں۔ پاکستان کی جانب سے کومل خان نے 29رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی۔ پورے لیگ مرحلے میں سری لنکا کی ٹیم ناقابل شکست رہی۔ اس نے پاکستان کو 12اکتوبر کو 6وکٹوں سے شکست دی جس میں لیمانسا تھلاکاراتھنا نے 3وکٹیں 14 رنز دے کر لیں۔ بنگلہ دیش نے بھی پاکستان کو ایک اور میچ میں 13رنز سے ہرایا۔ اس میچ میں فرجانہ اسمم مدھا نے 3وکٹیں 25رنز دے کر پلیئر آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا۔پاکستان کی نوجوان ٹیم اس ٹورنامنٹ میں تجربہ حاصل کرنے میں کامیاب تو رہی لیکن فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ویمن انڈر 19کرکٹ کو ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے۔ٹورنامنٹ کا فائنل 16اکتوبر 2026کو اقبال اسٹیڈیم میں ہی کھیلا گیا، جس میں سری لنکا اور بنگلہ دیش آمنے سامنے تھیں۔ دونوں ٹیمیں لیگ مرحلے میں ٹاپ دو پوزیشنز پر رہ کر فائنل میں پہنچی تھیں۔ سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 158رنز 6وکٹوں پر بنائے۔ اس اننگز کی ستون سنجنا کاونڈی رہیں جنہوں نے 44 گیندوں پر 64رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں 7چوکے اور 2چھکے شامل تھے۔ ان کے علاوہ ویموکشا بالاسوریا نے 23، نیتھمی اوپیکشا نے 22اور اومایانگانا پیریس نے ناقابل شکست 28رنز بنائے۔ جواب میں بنگلہ دیش کی کپتا ن سعدیہ اسلام نے 36گیندوں پر 59رنز کی بہترین اننگز کھیلی اور سعدیہ اختر نے 35رنز بنائے، لیکن ٹیم 154رنز 7وکٹ پر ہی بنا سکی اور 4رنز سے فائنل ہار گئی۔ سری لنکا کی جانب سے چامودھی ہیراتھ نے2وکٹیں 32رنز دے کر اور کپتان چامودی پربودھا نے 2وکٹیں صر ف 17رنز دے کر حاصل کیں۔ اس فتح کے ساتھ سری لنکا نے یہ ٹائٹل اپنے نام کیا اور سنجنا کاونڈی کو فائنل میں شاندار بیٹنگ پر پلیئر آف دی میچ اور پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی پر پلیئر آف دی سیریز کا ایوارڈ دیا گیا ۔ انعامات سری لنکن ہائی کمشنر ایڈمرل فریڈ سینیوی رتنے نے تقسیم کیے۔ جبکہ اس موقع پر ڈویژنل کمشنر عمران حامد شیخ اور اسپانسرز کے نمائندے بھی موجود تھییہ سیریز فیصل آباد کے لیے ایک نئی شناخت لے کر آئی۔ اقبال اسٹیڈیم جو زیادہ تر مردوں کی کرکٹ کے لیے جانا جاتا تھا، اب خواتین کرکٹ کی تاریخ کا حصہ بھی بن گیا۔ مقامی شائقین، خاص طور پر لڑکیوں اور کھلاڑیوں کے خاندانوں نے میچز دیکھنے میں دلچسپی لی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے شہروں میں بھی ویمن کرکٹ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔یہ ٹورنامنٹ انڈر 19ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے انتہائی اہم تھا۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا تینوں ٹیموں کو مختلف حالات میں کھیلنے، ہدف کا دفاع کرنے اور ہدف کا تعاقب کرنے کا موقع ملا۔ یہی وہ تجربہ ہے جو ایک نوجوان کھلاڑی کو سینئر سطح پر جانے میں مدد دیتا ہے۔ میزبان ہونے کے باوجود پاکستان کا فائنل میں نہ پہنچنا ایک سوالیہ نشان ہے۔ بیٹنگ میں تسلسل کی کمی، جیسا کہ پہلے میچ میں 21پر 0سے 58پر 5 ہو جانا، ظاہر کرتا ہے کہ ڈومیسٹک سے انٹرنیشنل کرکٹ میں منتقلی کے لیے مزید کوچنگ اور ذہنی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ اقبال اسٹیڈیم میں کھیلی گئی یہ پہلی خواتین انڈر 19تین ملکی سیریز محض ایک ٹرافی نہیں تھی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ پاکستان کا ہر میدان اب خواتین کرکٹرز کا بھی ہے۔ سری لنکا نے ٹرافی جیتی، بنگلہ دیش نے دل جیتے، اور پاکستان نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ آنے والے برسوں میں جب ہماری سینئر ویمن ٹیم میں فیصل آباد کی نوجوان لڑکیاں کھیلیں گی، تو اس سیریز کو اس سفر کا پہلا سنگ میل یاد رکھا جائیگا۔




