اسلام آباد (بیوروچیف) ایران کے پاکستان میں سفیر نے کہا ہے کہ تہران جون میں پاکستان کی ثالثی سے طے پانیوالے عبوری معاہدے
کے تحت امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے۔ذرائع کے مطابق انہوں نے واشنگٹن پر سفارت کاری کو نقصان پہنچانے اور آبنائے ہرمز کے تنازع کو طول دینے کا الزام بھی عائد کیا۔سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران نے حال ہی میں پاکستان کے ذریعے یہ پیغام دیا تھا کہ اگر واشنگٹن اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے تو تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے، لیکن ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔پاکستان اور قطر نے جون میں ہونے والے اس معاہدے کی ثالثی میں مدد کی تھی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کرنا تھا۔اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقدم نے کہا کہ ایرانی حکام نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے دوروں کے دوران یہ آمادگی ظاہر کی تھی کہ اگر واشنگٹن ناکہ بندی ختم کر دے تو ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔مقدم نے یہ بھی کہا کہ تہران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا جائزہ لے گا اور پھر یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا اس کی حمایت کی جائے یا نہیں۔ انہوں نے اسے اتحاد کے لیے ایک ممکنہ ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم مکہ معاہدے کا مطالعہ کریں گے، اور اگر یہ اچھا ہوا تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔یہ معاہدہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر نئے حملوں کے بعد طے پایا تھا۔ معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک کا کہنا تھا کہ اس سے مشترکہ دفاعی صلاحیت مضبوط ہوگی اور دفاعی تعاون میں اضافہ ہوگا۔ترکیہ اس معاہدے کو توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر چکا ہے۔ترک اور پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا ہدف ایران یا کوئی اور ملک نہیں ہے۔ ترکیہ نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے یمن میں فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کا کردار مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا۔دریں ثناء ۔واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق امریکی صدر اوباما نے ٹرمپ کا بیانیہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو جنگ کی اصل وجہ بتایا گیا لیکن ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے۔خبر رساں ادارے کے مطابق اوباما نے امریکی ریاست اوہائیو میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صدر نے متعدد غلط فیصلے کیے جن میں سب سے اہم غیر ضروری جنگ شروع کرنے کا فیصلہ تھا۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسی غیر ضروری جنگ شروع کی جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا۔سابق صدر اوباما نے ٹرمپ انتظامیہ کو بدترین نا اہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر فتح کے اعلان کے 7ماہ بعد ہمارے اتحادیوں اور فوجی اڈوں پر حملے ہوئے، امریکی ہلاک و زخمی ہوئے، ہمارے میزائلوں کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں۔سابق صدر اوباما نے کہا کہ اب ایران کو آبنائے ہرمز پر ویٹو پاور حاصل ہے، اسی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ایران جنگ کے معاشی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا کہ اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہی جنگ ہے۔




