فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) سیاستدان رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم کی درآمد ناقابل فہم اور باعث تشویش ہے۔ پہلے غلط حکمت عملی سے اپنے کسان کو نظر انداز کیا گیا اور اب اگلے ماہ تین مراحل میں3نومبر، 5نومبر اور 9 نومبر کو اربوں ڈالر کی غیر ملکی گندم کے بحری جہاز پاکستان پہنچیں گے ۔ حالانکہ پہلے کسان سے گندم خریداری میں حیل و حجت سے کام لیا گیا اور من مانی پالیسی اختیار کی گئی ۔ جس کے باعث ہمارے کسان “رل” گئے۔ اور انتہائی سستے داموں گندم فروخت کرنے پر مجبور ہوئے۔ حتی کہ گندم وافر اورسستی ہونے کے باعث جانوروں کے چارہ کے طور پر استعمال کی گئی انہوں نے کہا کہ ہر سال کسان کے ساتھ ظلم ہوتا ہے اور اسے اس قدر برباد کیا جاتا ہے کہ وہ گھر کے برتن تک فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اور حکومتی من مانیوں پر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت کسانوں سے گندم خریداری کے ضمن میں موثر پالیسی اختیار کرتی۔ اگر کوئی مجبوری تھی تو بینکوں کے ذریعے گندم خرید لی جاتی اور یا کچھ مدت کے لیے گندم کے کسان کے پاس ہی رہنے دی جاتی تاکہ کسان کے گھروں میں خوشحالی اور زرعی شعبہ کو استحکام ملتا اور بیرون ملک سے گندم مہنگے داموں نہ منگوانا پڑتی انہوں نے کہا اربوں ڈالر کی گندم کی درامد نہ صرف کسانوں کے زخموں پر نمک کے چھڑکنے کے مترادف ہے بلکہ اس اقدام سے حکومتی نا اہلی کھل کر سامنے ا گئی ہے جبکہ دوسری طرف مقامی کسان مقروض اور مالی مشکلات کا شکار ہو کر رہ گیا ہے دوسری طرف حکومت مثبت معیشت وایکسپورٹ بڑھوتری اور سیاسی انقلاب کے نعرے لگا رہی ہے مگر کارکردگی یہ ہے کہ ان سے بنیادی غذا گندم بھی پوری نہیں ہو رہی رانا زاہد توصیف نے تجویز پیش کی ہے کہ چونکہ اگلے ماہ نومبر کے شروع میں گندم کی بوائی کا پہلا مرحلہ شروع ہو رہا ہے چنانچہ حکومت فوری طور پر گندم خریداری ریٹ مقرر کر لے تاکہ آئندہ قومی خزانے اربوں ڈالر کا بوجھ نہ پڑے اور مس مینجمنٹ نہ ہو کسان سے گندم کی خریدداری کے کئی طریقہ کار ہیں جن پر عمل کر کے ملک میں زرعی انقلاب لایا جا سکتا ہے پرائیویٹ بزنس سیکٹر کے ذریعے بھی گندم خریدی جا سکتی ہے صرف زبانی کلامی دعوے اور بار بار میٹنگز سے کچھ حاصل نہ ہوگا بلکہ زراعت اور انسان کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔




