وزن کم کرنے میں لوگوں کی سب سے بڑی غلطیاں

وزن کو صحت مند حدود میں برقرار رکھنا اچھی صحت کیلئے اہم ہے۔ لیکن بہت سے لوگ وزن کم کرنے کیلئے ایسے طریقے اپناتے ہیں جو ان کی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا ، غیر مستند مشوروں اور فوری نتائج کے وعدوں کی وجہ سے لوگ اکثر کریش ڈائٹ، کھانا چھوڑنے اور مختلف غذائوں سے مکمل پرہیز کرنے لگتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ صحت مند طریقے سے وزن کا انتظام کرنے کیلئے متوازن غذا ، مناسب جسمانی سرگرمی ، اچھی نیند اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔
عالمی ادارہ صحت(WHO)اور بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (CDC) کی رہنمائی کے مطابق صحت مند طرز زندگی اپنانا مجموعی صحت کیلئے فائدہ مند ہے۔ وزن کم کرنے کا مقصد صرف وزن کے پیمانے پر آنے والے نمبر کو کم کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ جسم کو ضروری غذائی اجزاء فراہم کرنا اور صحت کو بہتر بنانا بھی اہم ہے۔
-1کریش ڈائٹ اختیار کرنا
وزن کم کرنے کی سب سے عام غلطیوں میں سے ایک کریش ڈائٹ اختیار کرنا ہے۔ اس طریقے میں لوگ بہت کم کھانا کھاتے ہیں تاکہ مختصر وقت میں زیادہ وزن کم کر سکیں۔ تاہم بہت زیادہ غذائی پابندیاں لگانے سے جسم کو ضروری وٹامنز ، معدنیات، پروٹین اور توانائی مناسب مقدار میں نہیں مل پاتی۔ اس کے نتیجے میں کمزوری اور غذائی کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبٹیز اینڈ ڈائجسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیزز (NIDDK)کے مطابق وزن کم کرنے کے لئے ایک ایسا پروگرام منتخب کرنا چاہیے جو محفوظ ، حقیقت پسندانہ اور طویل مدت تک قابل عمل ہو۔ متوازن غذا اور مناسب غذائی منصوبہ بندی انتہائی محدود غذا کے مقابلے میں بہتر انتخاب ہے۔
-2کھانا چھوڑ دینا
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ناشتہ ، دوپہر کا کھانا یا رات کا کھانا چھوڑنے سے وزن جلد کم ہو جائے گا۔ لیکن کھانا چھوڑنے سے بعض افراد کو بعد میں زیادہ بھوک لگ سکتی ہے ، جس کی وجہ سے وہ غیر منصوبہ بند اسنیکس یا زیادہ مقدار میں کھانا کھا سکتے ہیں اس کے علاوہ کھانے کے موقع کم ہونے سے ضروری غذائی اجزاء حاصل کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہر شخص کے لئے ایک ہی وقت پر کھانا ضروری ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ دن بھر کی غذا جسم کی ضروریات پوری کرے۔ غذائی ماہرین انفرادی ضروریات ، بھوک اور روزہ مرہ معمولات کو مد نظر رکھتے ہوئے کھانے کا مناسب شیڈول تجویز کرتے ہیں۔
-3کاربوہائیڈریٹس سے مکمل پرہیز کرنا
روٹی ، چاول، آلو اوردیگر کاربوہائیڈریٹس والی غذائوں کو مکمل طور پر چھوڑ دینا ایک عام غلطی ہے۔کاربوہائیڈریٹس جسم کے لئے توانائی کا اہم ذریعہ ہیں جبکہ ثابت اناج سے بنی غذائیں فائبر اور دیگر ضروری غذائی اجزاء بھی فراہم کرتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت صحت مند غذا میں مختلف غذائی گروپ کو مناسب مقدار میں شامل کرنے کی اہمیت بیان کرتا ہے۔اس لیے ہر قسم کے کاربوہا ئیڈریٹس کو نقصان دہ سمجھنا درست نہیں۔ سفید آٹے کے بجائے ثابت گندم کی روٹی، دلیہ اور دیگر ثابت اناج کا انتخاب مفید ہو سکتا ہے ۔ غذا کی مقدار ، معیار اور مجموعی توازن پر توجہ دینا زیادہ اہم ہے۔
-4کھانے کی مقدار پر توجہ نہ دینا
صحت بخش غذا کھانا ضروری ہے۔ لیکن مقدار بھی اہمیت رکھتی ہے۔ مثال کے طور خشک میوہ جات ، بیج اور تیل غذائیت فراہم کرتے ہیں ، تاہم ان میں توانائی کی مقدارنسبتا ً زیادہ ہو سکتی ہے۔ اسی طرح تلی ہوئی اشیاء میٹھے مشروبات اور زیادہ چکنائی والی غذائوں کا بار بار زیادہ مقدار میں استعمال متوازن غذا برقرار رکھنا مشکل بنا سکتا ہے۔
اس مسئلے کا حل بھوکا رہنا نہیں ، بلکہ مناسب مقدار میں مختلف غذائیں کھانا ہے۔ پلیٹ میں سبزیاں، پروٹین والی غذائیں اور اناج شامل کرنا متوازن خوراک کی ایک عملی مثال ہے۔ اپنی بھوک، پیٹ بھرنے کے احساس اورجسم کی ضروریات پرتوجہ دینا بہتر غذائی عادات پیدا کرنے میں مدد گار ہو سکتا ہے۔
-5وزن کم کرنیوالی چائے اور سپلیمنٹس پر انحصار کرنا
بازار میں مختلف چائے، ڈیٹاکس ڈرنکس اور سپلیمنٹس کو وزن کم کرنے کیلئے فروخت کیا جاتا ہے ۔بعض مصنوعات بہت کم وقت میں غیر معمولی نتائج حاصل کرنے کے دعوے کرتی ہیں، لیکن ایسے دعوئوں کیلئے قابل اعتماد سائنسی ثبوت ضروری ہیں۔ ہر قدرتی یا ہربل پروڈکٹ لازما محفوظ نہیں ہوتی اور بعض مصنوعات کے مضر اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔
NIDDK کے مطابق ایسے پروگراموں سے محتاط رہنا چاہیے جو بغیر مناسب کوشش کے بہت زیادہ وزن کم کرنے کا وعدہ کریں۔ وزن کے انتظام کے لیے کسی ایک مشروب پر انحصار کرنے کے بجائے متوازن غذا’ جسمانی سرگر می اور مناسب طرز زندگی اپنانا بہتر ہے۔ کسی سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے مستند ڈاکٹر یا متعلقہ صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
6۔ پروٹین اور فائبر کی اہمیت کو نظرانداز کرنا
بعض لوگ وزن کم کرنے کے لیے صرف خوراک کی مقدار کم کرنے پر توجہ دیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی غذا میں پروٹین اور فائبر مناسب مقدار میں موجود ہیں یا نہیں۔ پروٹین جسم کے ٹشوز کی تعمیر اور مرمت کے لیے ضروری ہے جبکہ فائبر نظام ہاضمہ کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور بعض غذائوں کے ذریعے پیٹ بھرنے کے احساس میں مدد دے سکتا ہے۔ انڈے، دودھ’ دہی’ دالیں’ چنے’ مچھلی اور گوشت پروٹین کے ذرائع ہیں۔ سبزیاں’ پھل’ دالیں اور ثابت اناج فائبر فراہم کرتے ہیں۔ ان غذائوں کو مناسب مقدار میں روزمرہ خوراک میں شامل کرنے سے ضروری غذائی اجزاء حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم پروٹین کی ضرورت ہر فرد میں عمر’ جسمانی سرگرمی اور صحت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
7۔ صرف ورزش پر انحصار کرنا
جسمانی سرگرمی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے لیکن صرف ورزش کرنے اور غذائی عادات کو نظرانداز کرنے سے صحت مند طرز زندگی برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ورزش دل’ پٹھوں اور ہڈیوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے جبکہ متوازن غذا جسم کو ضروری توانائی اور غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے۔ CDC کی رہنمائی کے مطابق صحت مند طرز زندگی میں مناسب جسمانی سرگرمی’ صحت بخش غذا اور دیگر مثبت عادات شامل ہیں۔ پیدل چلنا’ سائیکل چلانا’ کھیلوں میں حصہ لینا اور اپنی صلاحیت کے مطابق دوسری گرمیاں اپنانا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ورزش کا انتخاب عمر’ صحت اور جسمانی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔
8۔ فوری نتائج کی توقع کرنا
بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ چند دنوں میں ان کے وزن میں نمایاں تبدیلی آ جائے۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ مایوس ہو کر اپنی غذا تبدیل کر لیتے ہیں یا ایک کے بعد دوسری ڈائٹ آزمانے لگتے ہیں۔ اس طرح مستقل اور صحت مند عادات اپنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ CDC کے مطابق بالغ افراد میں بتدریج وزن کم کرنا عموماً تیزی سے وزن کم کرنے کے مقابلے میں اسے برقرار رکھنے کے بہتر امکانات سے وابستہ ہے۔ تاہم ہر فرد کے نتائج مختلف ہوتے ہیں اور ان پر متعدد عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے غیر حقیقی اہداف مقرر کرنے کے بجائے متوازن غذا’ باقاعدہ سرگرمی اور اچھی نیند جیسی عادات پر توجہ دینی چاہیے۔
9۔ کسی دوسرے شخص کی ڈائٹ کاپی کرنا
سوشل میڈیا لوگ اکثر مشہور شخصیات یا دوستوں کے غذائی منصوبوں کو دیکھ کر وہی خوراک اپنانے لگتے ہیں۔ لیکن ہر شخص کی غذائی ضروریات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ عمر’ جسمانی سرگرمی’ صحت’ غذائی ترجیحات اور روزمرہ معمولات کے مطابق خوراک کی ضروریات بدل سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم کی غذائی ضروریات کسی زیادہ جسمانی سرگرمی کرنے والے فرد سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح بعض طبی حالات میں مخصوص غذائی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک مستند ڈائٹیشن فرد کی ضروریات کو سمجھ کر مناسب غذائی منصوبہ تیار کر سکتا ہے۔ اس لیے کسی دوسرے شخص کی ڈائٹ اپنانے کے بجائے اپنی ضروریات کے مطابق غذا منتخب کرنا زیادہ مناسب ہے۔
10۔ نیند اور ذہنی دبائو کو نظرانداز کرنا
صحت مند طرز زندگی میں صرف غذا اور ورزش ہی اہم نہیں، بلکہ نیند اور ذہنی صحت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ناکافی نیند اور مسلسل ذہنی دبائو بعض افراد میں بھوک’ کھانے کی خواہش اور غذائی انتخاب کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تھکاوٹ کی وجہ سے روزمرہ جسمانی سرگرمیاں انجام دینا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ CDC صحت مند وزن کے انتظام کے لیے مناسب نیند اور ذہنی دبائو کو سنبھالنے کی اہمیت بیان کرتا ہے۔ روزانہ مناسب وقت پر سونا’ نیند کا باقاعدہ معمول بنانا، آرام کے لیے وقت نکالنا اور اپنی پسند کی مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اگر ذہنی دبائو مسلسل زندگی کو متاثر کر رہا ہو تو مناسب پیشہ وارانہ مدد حاصل کرنا بھی اہم ہے۔
نتیجہ
وزن کم کرنے میں سب سے بڑی غلطی غیر حقیقی نتائج کی امید میں غیر متوازن اور انتہائی محدود غذائی طریقے اپنانا ہے۔ کریش ڈائٹ’ کھانا چھوڑنا’ کاربوہائیڈریٹس سے مکمل پرہیز کرنا اور غیر مستند مصنوعات پر انحصار کرنا صحت مند غذائی عادات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
صحت مند وزن کے انتظام کے لیے متوازن غذا’ مناسب غذائی مقدار’ جسمانی سرگرمی’ اچھی نیند اور مستقبل مزاجی اہم ہیں۔ ایک مستند ڈائٹیشن فرد کی ضروریات کے مطابق ایسا غذائی منصوبہ تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو ضروری غذائی اجزاء فراہم کرے اور طویل مدت تک قابل عمل ہو۔
اصل مقصد صرف وزن کے پیمانے پر آنے والے نمبر کو تبدیل کرنا نہیں’ بلکہ مجموعی صحت بہتر بنانا’ جسم کی غذائی ضروریات پوری کرنا اور کھانے کے ساتھ صحت مند تعلق قائم رکھنا ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں