عالمی برادری مسئلہ کشمیر کا حل یقینی بنائے (اداریہ)

27 اکتوبر کشمیری عوام کی تاریخ کا وہ دن ہے جو ہر سال عالمی ضمیر کو جھنجوڑتا اور اقوام عالم کو ان وعدوں کی یاد دلاتا ہے جو آج تک پورے نہیں ہو سکے، 1947ء میں اسی روز بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئیں اور مسئلہ کشمیر ایک ایسے تنازعے کی صورت اختیار کر گیا جس کے اثرات تقریباً آٹھ دہائیوں سے جنوبی ایشیا کے امن واستحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ کشمیری عوام اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ ان کی آزادانہ مرضی اور حق خودارادیت کے اصول کے مطابق ہونا ابھی باقی ہے۔ بھارت کے تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے سوا دو ماہ بعد 27 اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ ہری سنگھ سے منسوب ایک جعلی دستاویز کو جواز بنا کر وادی کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کی تھیں اور آج 79 سال بعد بھی وادی کشمیر بھارتی فوجوں کے تسلط میں ہے جنہوں نے کشمیریوں کی بھارتی تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے کسی ہتھکنڈے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بھارت کی قیادت ہندوتوا کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کے تحت مسلمانوں کے لیے علامہ اقبال اور قائداعظم کی الگ خطہ ارضی کی جدوجہد کی سخت مخالفت تھی اس لیے انہوں نے 23مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور کی بنیاد پر قائداعظم کی زیرقیادت شروع ہونے والے تحریک پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکانا شروع کر دیئے مگر حصول پاکستان کی اس جدوجہد میں تحریک پاکستان کے قائدین کے ساتھ ساتھ اس تحریک میں شامل مسلمان عوام بھی ثابت قدم رہے۔ بھارت کی ہندو قیادت کی نیت کشمیر پر تسلط جمانے کی تھی تاکہ بادل نخواستہ پاکستان قائم ہو جائے تو کشمیر کا اس کے ساتھ الحاق نہ ہونے دیا جائے۔ ہندو قیادت کی اس بدنیتی میں لارڈ مائونٹ بیٹن نے بھی ان کا ساتھ دیا اور پاکستان بھارت سرحدوں کی نشاندہی کے لیے قائم بائونڈری کمیشن کی رپورٹ کے برعکس گورداسپور کا علاقہ بھارت میں شامل کرا دیا تاکہ اسے ریاست جموں وکشمیر تک رسائی میں آسانی ہو سکے۔ اسی طرح قیام پاکستان کے بعد کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے فیصلہ پر بھی عملدرآمد نہ ہونے دیا گیا جس کا مقصد بھارت کو کشمیر پر تسلط جمانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ اسی دوران 26اکتوبر 1947ء کو بھارتی وزیراعظم جواہرلال نہرو کی جانب سے مہاراجہ ہری سنگھ سے منسوب ایک دستاویز منظرعام پر لائی گئی جو کشمیر کے بھارت سے الحاق کا جعل سازی پر مبنی ایک معاہدہ تھا جسے جواز بنا کر بھارت نے اگلے ہی روز 27اکتوبر کو ریاست جموں وکشمیر میں اپنی فوجیں داخل کر کے اس کے غالب حصے پر اپنا تسلط جما لیا اور پھر خود ہی کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اس کے تصفیہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کر دی۔ بھارت کی موجودہ مودی سرکار نے اپنے ہندو توا کے ایجنڈے کے تحت سات سال قبل پانچ اگست 2019ء کو بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کو حذف کرا کے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ کیا۔ دوسری جانب کشمیری عوام اسی تناظر میں عالمی برادری کو بھارت کا مسلم دشمن اصل مکروہ چہرہ دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل جہاں جنوبی ایشیا میں مستقل قیام امن کے لیے راہ ہموار کرے گا وہیں اس کے ذریعے بھارت کو یہ پیغام بھی ملے گا کہ وہ لامحدود طاقت اور اختیارات کا حامل نہیں ہے۔ آج 27اکتوبر کو کشمیری عوام بھارت کی حکومت کو یہی پیغام دینے کے لیے یوم سیاہ اور یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں کہ وہ اپنے جائز حقوق سے کسی صورت بھی دستبردار نہیں ہونگے اور نہ ہی بھارت کی اندھی طاقت کے سامنے خود کو جھکائیں گے۔ 27 اکتوبر کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام کے مستقبل کا سوال ابھی حل طلب ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد میں طویل تاخیر عالمی برادری کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے اپنے بنیادی مقاصد اور منظورکردہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ کشمیری عوام کو امن’ عزت’ تحفظ اور اپنے مستقبل کے یقین کا حق ملنا خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ عالمی برادری کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہو گی جب تنازعات کو محض سفارتی فائلوں تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے حل کے لیے عملی پیش رفت کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں