امریکی انتخابات میں سیاست کیساتھ سٹے کا میدان بھی گرم

ٹیکساس (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل کانگریس، سینیٹ اور گورنروں کی نشستیں پیش گوئی کی منڈیوں میں جوئے کا مرکز بن گئیں، کیلشی پر انتخابی نتائج سے متعلق اربوں نہیں بلکہ کروڑوں ڈالر کے مالیاتی دا، ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں برتری کی پیش گوئی۔دنیا بھر میں کھیلوں کے مقابلوں پر ہار جیت کی پیش گوئی اور سٹے بازی کوئی نئی بات نہیں، لیکن امریکا میں اب سیاست کا میدان بھی جوئے اور مالیاتی دا پیچ کا ایک بڑا مرکز بنتا جا رہا ہے، 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی کانگریس، سینیٹ اور ریاستی گورنروں کے انتخابی نتائج پر کروڑوں ڈالر دا پر لگائے جا چکے ہیں، جہاں امیدواروں کی کامیابی سے لے کر سیاسی جماعتوں کی اکثریت تک ہر ممکنہ نتیجہ خرید و فروخت کا موضوع بنا ہوا ہے۔انتخابی مہم کے ساتھ ساتھ امریکا کی پیش گوئی کی منڈیوں (Prediction Markets) میں بھی غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آ رہی ہے، ان منڈیوں میں لوگ مختلف انتخابی نتائج سے متعلق امکانات پر مالیاتی کنٹریکٹس خریدتے اور فروخت کرتے ہیں، اس کاروبار کا نمایاں پلیٹ فارم کیلشی (Kalshi) ہے، جو امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کی نگرانی میں کام کرتا ہے، اگرچہ عام زبان میں اسے سیاسی سٹے بازی یا جوا کہا جاتا ہے، تاہم کیلشی اسے ایونٹ کنٹریکٹس کی خرید و فروخت قرار دیتا ہے۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق کیلشی کی وسیع تر انتخابی منڈیوں میں گزشتہ 30 دنوں کے دوران تقریبا 45 کروڑ 42 لاکھ ڈالر کی تجارتی سرگرمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ صرف 31 اکتوبر کو تقریبا 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کے کنٹریکٹس کی خرید و فروخت ہوئی تاہم ان اعدادوشمار میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے علاوہ دیگر انتخابی منڈیاں بھی شامل ہیں، اس لیے انہیں صرف 3 نومبر کے انتخابات پر لگائی گئی مجموعی رقم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435، سینیٹ کی 35 اور 36 ریاستوں میں گورنروں کی نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے، کئی ریاستوں میں انتخابی دوڑ انتہائی سخت ہے اور روایتی عوامی سرویز کے ساتھ ساتھ پیش گوئی کی منڈیوں میں بھی ان مقابلوں پر بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔کیلشی پر ایوانِ نمائندگان کے کنٹرول سے متعلق ایک نمایاں مارکیٹ میں تقریبا 17 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کی تجارتی سرگرمی ریکارڈ کی گئی،اس مارکیٹ میں دستیاب ایک حالیہ جائزے کے مطابق ڈیموکریٹس کے ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کا امکان 93 فیصد جبکہ ری پبلکنز کا امکان صرف 7 فیصد ظاہر کیا گیا۔اسی طرح سینیٹ کے مجموعی کنٹرول سے متعلق مارکیٹ میں تقریبا 13 کروڑ 39 لاکھ ڈالر کی سرگرمی ریکارڈ ہوئی، جہاں ڈیموکریٹس کی کامیابی کا امکان 72 فیصد اور ری پبلکنز کا 28 فیصد دکھایا گیا۔سینیٹ سے متعلق ایک دوسری مارکیٹ میں بھی تقریبا 2 کروڑ 55 لاکھ ڈالر کی تجارتی سرگرمی سامنے آئی، یہ الگ الگ مارکیٹس ہیں، اس لیے ان کے حجم کو ایک ہی دا یا ایک دوسرے سے غیر متعلق رقوم کو جمع کرکے کسی ایک انتخابی مقابلے کی شرط قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی انتخابات اب صرف امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور ووٹروں کے لیے اہم نہیں رہے بلکہ مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ لگانے والے افراد بھی انتخابی نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ان انتخابات میں سب سے زیادہ توجہ ٹیکساس کی سینیٹ نشست نے حاصل کر رکھی ہے، جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلاریکو اور ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے درمیان مقابلہ ہے۔کیلشی پر اس مقابلے سے متعلق مارکیٹ میں تقریبا 6 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کی تجارتی سرگرمی ریکارڈ کی گئی،دستیاب جائزے میں ٹیلاریکو کی کامیابی کا امکان 69 فیصد جبکہ پیکسٹن کا 31 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔یہ صورتحال اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ ٹیکساس روایتی طور پر ری پبلکنز کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے، ایسے میں ڈیموکریٹک امیدوار کے حق میں پیش گوئی کی منڈیوں کا جھکا انتخابی تجزیہ کاروں کے لیے دلچسپی کا باعث بن رہا ہے،تاہم ان مارکیٹوں کے اندازوں کو حتمی انتخابی نتیجہ یا عوامی سروے کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ٹیکساس میں گورنر کا انتخاب بھی پیش گوئی کی منڈیوں میں زیرِ بحث ہے، جہاں موجودہ ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ اور ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوہوزا کے درمیان مقابلہ ہے، کیلشی پر ایبٹ کی کامیابی کا امکان تقریبا 66 فیصد جبکہ ہینوہوزا کا 34 فیصد دکھایا گیا ہے۔یوں ایک ہی ریاست میں سینیٹ اور گورنر کی دو مختلف نشستوں کے بارے میں سٹے بازوں کی پیش گوئیاں الگ الگ سمت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ٹیکساس کے علاوہ مین، اوہائیو، مشی گن، آئیووا اور کنساس کی سینیٹ نشستوں پر بھی خاصی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ریاست مین میں ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن اور ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے مقابلے سے متعلق مارکیٹ میں تقریبا ایک کروڑ 65 لاکھ ڈالر کی سرگرمی ریکارڈ کی گئی، دستیاب جائزے میں جیکسن کی کامیابی کا امکان 69 فیصد جبکہ کولنز کا 31 فیصد بتایا گیا ہے۔مشی گن میں عبدالسید اور مائیک راجرز، اوہائیو میں شیروڈ بران اور جان ہسٹڈ، آئیووا میں جوش ٹیورک اور ایشلے ہنسن جبکہ کنساس میں ایڈم ہیملٹن اور راجر مارشل کے درمیان مقابلوں پر بھی سٹے بازوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ان ریاستوں میں انتخابی سرویز، امیدواروں کی مہم اور سیاسی پیش رفت کے ساتھ ساتھ پیش گوئی کی منڈیوں میں کنٹریکٹس کی قیمتیں بھی مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں۔امریکا کی 50 ریاستوں میں سے 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخاب بھی ان مالیاتی منڈیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔اوہائیو میں ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن اور ری پبلکن امیدوار وویک راماسوامی کے مقابلے پر تقریبا 76 لاکھ ڈالر کی تجارتی سرگرمی ریکارڈ کی گئی، اس مارکیٹ میں ایکٹن کی کامیابی کا امکان 79 فیصد جبکہ راماسوامی کا 21 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔فلوریڈا میں ری پبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز اور ڈیموکریٹک امیدوار ڈیوڈ جولی کے مقابلے کے علاوہ جارجیا، نیواڈا، کنساس اور دیگر اہم ریاستوں کے گورنر انتخابات بھی پیش گوئی کی منڈیوں میں زیرِ بحث ہیں۔کیلشی پر انتخابی نتائج سے متعلق دا لگانے کا طریقہ بظاہر سادہ ہے، صارف کسی مخصوص انتخابی نتیجے کے حق میں ‘ہاں’ یا اس کے خلاف ‘نہیں’ کا کنٹریکٹ خریدتا ہے۔مثال کے طور پر اگر کسی امیدوار کی کامیابی سے متعلق کنٹریکٹ کی قیمت 70 سینٹ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ اس نتیجے کو تقریبا 70 فیصد امکان دے رہی ہے، اگر امیدوار کامیاب ہو جائے تو درست کنٹریکٹ کی مالیت ایک ڈالر ہو جاتی ہے، جس سے خریدار کو خریداری کی قیمت اور متعلقہ فیس منہا کرنے کے بعد منافع حاصل ہوتا ہے۔اس کے برعکس اگر امیدوار انتخاب ہار جائے تو اس کی کامیابی سے متعلق کنٹریکٹ کی مالیت صفر ہو جاتی ہے اور خریدار اپنی لگائی گئی رقم سے محروم ہو جاتا ہے۔اس نظام میں ایک صارف امیدوار کی کامیابی پر دا لگا سکتا ہے تو دوسرا اسی امیدوار کی ناکامی پر کنٹریکٹ خرید سکتا ہے، انتخابی مہم کے دوران نئے سرویز، امیدواروں کے بیانات، سیاسی حالات اور دیگر پیش رفت کے نتیجے میں ان کنٹریکٹس کی قیمتیں مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ اگر کسی امیدوار کی کامیابی کا امکان کیلشی پر 70 فیصد دکھایا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ امیدوار 70 فیصد ووٹ حاصل کرے گا، یہ دراصل ایک مخصوص وقت میں مارکیٹ کے شرکا کی خرید و فروخت سے بننے والی قیمت ہے، جو انتخابی حالات کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے۔اسی طرح کسی انتخابی مارکیٹ میں پانچ کروڑ ڈالر کی تجارتی سرگرمی کا مطلب یہ نہیں کہ پوری رقم ایک ہی امیدوار کی کامیابی پر لگائی گئی ہے، اس حجم میں مختلف نتائج پر خریدے اور فروخت کیے گئے کنٹریکٹس اور ایک ہی کنٹریکٹ کی بار بار ہونے والی تجارت بھی شامل ہو سکتی ہے ۔امریکی سیاست میں پیش گوئی کی منڈیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، ان منڈیوں کے حامیوں کا مقف ہے کہ یہ مختلف سیاسی معلومات، عوامی توقعات اور سرمایہ کاروں کے اندازوں کو ایک قابلِ مشاہدہ قیمت میں سمو دیتی ہیں، جس سے انتخابی رجحانات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔دوسری جانب ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس رجحان سے بڑے سرمایہ کاروں کا سیاسی عمل پر اثر بڑھ سکتا ہے اور جمہوری انتخابات عوامی نمائندگی کے بجائے منافع اور نقصان کے مالیاتی کھیل کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ان کے نزدیک انتخابی نتائج پر بھاری رقوم دا پر لگنے سے سیاست کے بارے میں عوامی بحث کا محور بھی تبدیل ہو سکتا ہے، جہاں امیدواروں کی پالیسیوں اور کارکردگی کے بجائے ان کی کامیابی یا ناکامی سے حاصل ہونے والے مالی فائدے کو زیادہ اہمیت دی جانے لگے۔انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد درست پیش گوئی کرنے والے کنٹریکٹ ہولڈرز کو منافع حاصل ہوگا، جبکہ غلط اندازہ لگانے والے اپنی لگائی گئی رقم سے محروم ہو سکتے ہیں۔یوں امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایک طرف امیدوار عوامی حمایت اور ووٹوں کے حصول کے لیے میدان میں ہیں تو دوسری طرف پیش گوئی کی منڈیوں میں سرمایہ لگانے والے افراد کی نظریں بھی ہر انتخابی حلقے اور سیاسی تبدیلی پر مرکوز ہیں، 3 نومبر کو صرف امریکی ووٹرز ہی اپنے نمائندوں کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ ان نتائج کے ساتھ کروڑوں ڈالر کی مالیاتی شرطوں کا نفع و نقصان بھی طے ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں