اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 2025 میں تاریخی سطح پر پہنچ گئیں، اور 3 ارب 80 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد اضافہ ہے، اس کارکردگی سے ملکی معیشت میں آئی ٹی کے شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، جو عالمی سطح پر ڈیجیٹل خدمات کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے ہے۔رپورٹ کے مطابق اس ترقی میں اہم کردار فری لانس اور ریموٹ ورک سیکٹر کا رہا، جس میں 90 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور اس کی برآمدات 77 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، یہ پاکستان کے ڈیجیٹل ٹیلنٹ میں اضافے اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات میں عالمی مسابقت کی عکاسی کرتا ہے۔ان متاثر کن اعداد و شمار کے باوجود، اسٹیک ہولڈرز نے حکومت کی جانب سے مستقل پالیسی سپورٹ کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر پیش گوئی کے قابل ضوابط اور آسان کمپلائنس نہ دی گئی تو آنے والے سالوں میں یہ رفتار سست ہو سکتی ہے۔وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کام نے اس ترقی کو 5 ترجیحی شعبوں میں پیش رفت کا نتیجہ قرار دیا ہے، پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی عالمی سطح پر پوزیشننگ، ٹیلنٹ اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری، پالیسی سپورٹ، تیز رفتار انٹرنیٹ کی دستیابی، اور قومی ڈیجیٹل اقدامات، جن میں کیش لیس معیشت کا فروغ بھی شامل ہے۔




