اسلام آباد (عظیم صدیقی) قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کی تبدیلی کیلئے پی ٹی آئی کے اندر سے دبائو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پیر اور منگل کے روز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دونوں قائدین حزب اختلاف کے چیمبرز کی رونقیں ماند رہیں کیونکہ پی ٹی آئی کے ممبران پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ ان دونوں نے حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل میں بنا بنایا کھیل بگاڑا اگرچہ اہم کردار سہیل آفریدی کا ہے لیکن محمود اچکزئی بھی کھیل بگاڑنے میں اہم اور بنیادی کردار ہیں وہ کوئی اور کھیل کھیل رہے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ پی ٹی آئی ایوانوں کی لابیز میں بیٹھ رہے ہیں وہ چیمبر جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ کور کمیٹی کے جمعہ کے روز دونوں اجلاسوں میں ارکان نے کھل کر اس کا اظہار کیا تھا۔ جس کے بعد اب اچکزئی تحریک میں اضافہ ہو رہا ہے ایسا اگرچہ آسان نہیں کیونکہ اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا تقرر عمران نے خود کیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات مزید بگاڑنے کا ذمہ دار بھی اچکزئی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اسد قیصر کو قائد حزب اختلاف بنانے کیلئے ”لابنگ” ہو رہی ہے جب عمران خان سے ملاقاتیں آزاد ہوں گی تب ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔




