اسٹیل پالیسی نہ ہونے سے صنعت غیر یقینی اور بے ضابطگیوں کا شکار

اسلام آباد(بیوروچیف) قومی اسٹیل پالیسی نہ ہونے سے صنعت غیر یقینی اور بے ضابطگیوں کا شکار ہے، جس کے باعث کمپیٹیشن کمیشن نے چین و بھارت کی طرز پر اسٹیل کی علیحدہ وزارت کے قیام کی سفارش کر دی۔کمپیٹیشن کمیشن نے اسٹیل سیکٹر میں کمپٹیشن کی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ میں اسٹیل سیکٹر کو درپیش مسابقتی چیلنجز اور پالیسی خلا کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹیل اسکریپ کی درآمد 2.7 ملین میٹرک ٹن جبکہ مقامی پیداوار 8.4ملین میٹرک ٹن رہی۔ پاکستان اسٹیل مل 2015سے غیر فعال ہے اور اس پر 400ارب روپے کے واجبات کا بوجھ ہے۔رپورٹ کے مطابق غیر معیاری اسٹیل کی پیداوار 60فیصد تک پہنچ چکی ہے جس سے صارفین کے مفادات متاثر ہو رہے ہیں۔ سابق فاٹا اور پاٹا سے بغیر ٹیکس اسٹیل کی منتقلی سے قومی خزانے کو 40 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔کمپیٹیشن کمیشن نے رپورٹ میں ٹیکس اصلاحات، معیار کے نفاذ اور گرین ٹیکنالوجی اپنانے کی سفارش کرتے ہوئے اسٹیل سیکٹر میں شفاف اور پائیدار اصلاحات پر زور دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں