اطلاع دیئے بغیر ڈیم کے گیٹس کھولنا آبی نظام کی خلاف ورزی

کوئٹہ(بیورو چیف)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے سلال ڈیم کے گیٹس پاکستان کو پیشگی اطلاع دیے بغیر کھولے ہیں تو یہ انڈس واٹر ٹریٹی کی روح اور دونوں ممالک کے درمیان قائم آبی اعتماد کے نظام کی سنگین خلاف ورزی ہے ایسے اقدامات نہ صرف لاکھوں شہریوں، زرعی اراضی اور قومی انفراسٹرکچر کو خطرات سے دوچار کرتے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں شدید بارشوں کے باعث دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق سلال ڈیم سے بڑی مقدار میں پانی چھوڑا گیا ہے، جس کے باعث پاکستان کے بالائی علاقوں خصوصاً ہیڈ مرالہ کے اطراف سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسے حالات میں بروقت معلومات کی فراہمی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی صرف پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، شفافیت اور بروقت معلومات کے تبادلے کا بھی ایک اہم فریم ورک ہے۔ اگر اس کے تقاضوں کو نظر انداز کیا جائے تو یہ بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف ہوگا۔انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو فوری طور پر انڈس واٹر کمیشن کے سامنے اٹھایا جائے، بھارت سے باضابطہ وضاحت اور احتجاج ریکارڈ کرایا جائے، اور ضرورت پڑنے پر معاہدے کے تحت دستیاب قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا جائے تاکہ پاکستان کے آبی حقوق کا ہر سطح پر مؤثر دفاع کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان آبی سلامتی کو قومی سلامتی کا بنیادی ستون قرار دے۔ جدید فلڈ وارننگ سسٹمز، ریئل ٹائم دریا مانیٹرنگ، آبی ذخائر میں اضافہ، نئے ڈیموں کی تعمیر، حفاظتی پشتوں کی مضبوطی اور جدید ہائیڈرولوجیکل ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری قومی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ پاکستان امن، بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے، لیکن اپنے قومی مفادات، آبی حقوق اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی برادری کو بھی اس امر کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ بین الاقوامی معاہدوں پر مکمل اور دیانتدارانہ عمل درآمد ہو، کیونکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار بھی ذمہ دارانہ آبی تعاون پر ہے۔
ا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں