انار کھانے کے بیشمار فائدے

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ہارٹ فیلیئر ایسی طویل المعیاد بیماری ہے جس کے دوران جسم کے لیے دل مناسب مقدار میں خون پہنچانے سے قاصر ہوجاتا ہے یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ دل کام کرنا بند کر دیتا ہے، بس وہ پہلے کی طرح ٹھیک کام نہیں کر پاتا۔اس بیماری کا علاج نہیں بلکہ ادویات کی مدد سے اسے بڑھنے سے روکا جاتا ہے۔اب محققین نے دریافت کیا ہے کہ انار کھانے سے ہارٹ فیلیئر سے متاثر ہونے والے دل کے افعال کو درست رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ انار میں ایسے مرکبات موجود ہوتے ہیں جو ہارٹ فیلیئر کے شکار افراد کے دلوں کے افعال کو بہتر کرنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔انار میں پولی فینولز نامی مرکبات کی ایک قسم Ellagitannins موجود ہوتی ہے جو اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتی ہے۔اس تحقیق میں جانوروں اور انسانی دلوں کے ٹشوز کو اسٹیم سیلز سے تیار کرکے مختلف مرکبات کا تجربہ کیا گیا۔محققین نے بتایا کہ ہارٹ فیلیئر کے حوالے سے دستیاب علاج میں پیشرفت ہوئی ہے مگر اب بھی وہ محدود نہیں اور اس سے دل پر مرتب منفی اثرات میں کوئی خاص نمایاں کمی نہیں آتی۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انار، اخروٹ اور بیریز میں موجود مرکبات دل کے افعال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔محققین کے مطابق ان مرکبات پر مبنی ادویات یا سپلیمنٹس کے استعمال سے بھی ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کو فائدہ ہوسکتا ہے مگر اس حوالے سے حقیقی مریضوں پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ انہیں کس حد تک فائدہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی ایسے شواہد تو موجود نہیں کہ انار کھانے سے ہی ہارٹ فیلیئر کا علاج ہوسکتا ہے مگر نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اس پھل کا استعمال جسم میں ان مرکبات کی سطح بڑھا سکتا ہے جس سے دل کے افعال کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں