فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) انسداد تجاوزات آپریشن کی آڑ میں انکروچمنٹ کا عملہ شہریوں کے ضبط شدہ مال پر ہاتھ صاف کرنے لگا۔ تفصیل کے مطابق حکومت پنجاب کی ہدایت پر کمشنر فیصل آباد سلوت سعید اور ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم صادق کی نگرانی میں میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے انکروچمنٹ عملہ نے آٹھ بازاروں سمیت شہر بھر کی مین شاہراہوں’ بازاروں پر تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ تاجروں کی طرف سے دکانوں کے باہر پختہ تجاوزات کو مسمار کرنے کے ساتھ ساتھ دکانوں کے باہر رکھا جانے والے قیمتی سامان کو ضبط کر کے میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے سٹور میں جمع کروانا ہوتا ہے۔ تاہم میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کا انکروچمنٹ کا عملہ بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے تاجروں کی دکانوں’ فٹ پاتھوں پر رکھا جانے والا قیمتی سامان اٹھا کر فی الفور ٹرکوں پر لاد دیتے ہیں اور تاجروں اور شہریوں کا اٹھائے جانے والے سامان کی کوئی رسید دیئے بغیر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن میں تجاوزات آپریشن کی آڑ میں اٹھائے جانے والے سامان کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ ہے۔ میونسپل کارپوریشن فیصل آباد انکروچمنٹ کا عملہ اٹھائے جانیوالے سامان کو سٹور میں جمع کروانے کی بجائے قیمتی سامان اٹھا کر گھروں یا دیگر مقامات پر رکھوا دیتے ہیں اور تاجروں کو سامان کے حصول کیلئے میونسپل کارپوریشن دفتر سے رجوع کرنے کا کہا جاتا ہے۔ جب تاجر وشہری اپنے ضبط شدہ سامان کے حصول کیلئے میونسپل کارپوریشن آفس جاتے ہیں تو پہلے دفتر نہ ہونے کا کہہ کر ٹرخایا جاتا ہے اور کئی دنوں کے بعد چکر لگانے کے بعد ان کو کہا جاتا ہے کہ سٹور میں سامان موجود نہ ہے۔ تجاوزات آپریشن کے دوران اٹھائے جانے والے سامان کی رسید نہ ہونے کی وجہ سے تاجروں کے قیمتی سامان سے ہاتھ دھونا پڑ رہے ہیں۔ شہری حلقوں نے کمشنر فیصل آباد سلوت سعید’ ڈپٹی کمشنر کیپٍٹن (ر) ندیم ناصر اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ انکروچمنٹ عملہ کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ دکانوں’ فٹ پاتھوں سے اٹھائے جانے والے سامان کی فہرست ورسید متعلقہ تاجر یا شہری کو دی جائے تاکہ شہری انکروچمنٹ کے عملہ کی لوٹ مار کو روکا جا سکے۔




