انگور کے حیرت انگیز فوائد

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) انگور ایک مزیدار پھل ہے جو مختلف رنگوں میں دستیاب ہوتا ہے۔ اس رسیلے اور میٹھے پھل میں متعدد غذائی اجزا اور اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جبکہ کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔انگور کے فوائد درج ذیل ہیں۔انگوروں کی تمام اقسام میں پولی فینولز نامی مرکبات موجودہوتے ہیں جو اینٹی آکسائیڈنٹس کا کام کرتے ہیں،اینٹی آکسائیڈنٹس جسم میں گردش کرنے والے مضر مواد کی روک تھام کرتے ہیں۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق پولی فینولز سے بھرپور غذائیں ذیابیطس، کینسر، الزائمر امراض، پھیپھڑوں کے امراض، ہڈیوں کی کمزوری اور امراض قلب سے بچانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انگور کھانے سے ان بیماریوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔انگور کھانے سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔اس میں موجود پولی فینولز مرکبات سے دل کی شریانوں سے جڑے امراض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس پھل کو ورم کش بھی تصور کیا جاتا ہے جس سے بھی دل کے افعال کو فائدہ ہوتا ہے اور شریانوں میں چربیلا مواد جمع ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔انگور میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کینسر کی مختلف اقسام سے متاثر ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق انگور میں موجود ایک اینٹی آکسائیڈنٹ Resveratrol سے جسمانی ورم میں کمی اور کینسر سے متاثر خلیات کی نشوونما اور پھیلا کی روک تھام ہوتی ہے۔انگوروں میں موجود دیگر اینٹی آکسائیڈنٹس بھی کینسر سے لڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔انگوروں میں متعدد ایسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو ہڈیوں کی صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔وٹامن بی، سی اور K کے ساتھ ساتھ پوٹاشیم اور manganese ہڈیوں کو کمزور ہونے سے بچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔اچھی بینائی کے لیے انگور بہترین پھل ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انگور کھانے کی عادت سے عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی میں آنے والی کمزوری سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور پھلوں کو کھانے سے تکسیدی تنا میں کمی آتی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق تکسیدی تنا میں کمی سے یادداشت اور دیگر دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں اور انگور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 12 ہفتوں تک انگور کا جوس پینے سے یادداشت بہتر ہوتی ہے۔میٹا بولک سینڈروم کی اصطلاح امراض قلب، ذیابیطس اور فالج کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کے گروپ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ توند نکلنا، خون میں چکنائی بڑھ جانا، ہائی بلڈ پریشر، ہائی بلڈ شوگر اور صحت کے لیے مفید کولیسٹرول کی سطح میں کمی جیسے عناصر کے لیے میٹا بولک سینڈروم کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔پولی فینولز سے بھرپور غذائیں جیسے انگور کھانے سے میٹا بولک سینڈروم سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔انگوروں کو وٹامن K کے حصول کا اچھا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔یہ وٹامن خون کے جمنے کے عمل میں مدد فراہم کرتا ہے اور اس کی کمی سے جریان خون کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وٹامن K کی کمی سے ہڈیوں کی کمزوری کے مسئلے کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔انگوروں میں غذائی فائبر کی کچھ مقدار موجود ہوتی ہے۔فائبر قبض سے تحفظ یا اس سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ انگوروں کا 81 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے جس سے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہوتی، واضح رہے کہ جسم میں پانی کی کمی قبض کا شکار بنانے والی بڑی وجہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں