اچھی نیند کابہترین فائدہ دریافت

ڈنمارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ ہائی بلڈ شوگر اور ذیابیطس ٹائپ 2جیسے دائمی امراض سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو اچھی نیند کو عادت بنالیں۔یہ بات ڈنمارک میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی کوپن ہیگن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جوان افراد اگر رات کو 7سے 8گھنٹوں کی نیند کو معمول بنائیں تو اگلے دن ان کے بلڈ شوگر کی سطح زیادہ وقت تک مستحکم رہتی ہے۔تحقیق کے مطابق ممکنہ طور پر نیند ذیابیطس جیسے امراض سے متاثر ہونے سے برسوں قبل میٹابولزم کی صحت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس تحقیق میں 18سال کی عمر کے 206نوجوانوں کو شامل کیا گیا اور ان کے روزمرہ کے معمولات جیسے نیند کا جائزہ 2 ہفتوں تک لیا گیا۔ان افراد کی جسمانی سرگرمیوں اور نیند کا ڈیٹا ایکٹیویٹی ٹریکرز کے ذریعے اکٹھا کیا گیا جبکہ گلوکوز سنسرز کے ذریعے بلڈ شوگر کی سطح پر مسلسل نظر رکھی گئی۔نتائج سے معلوم ہوا کہ طویل نیند سے بلڈ شوگر کی سطح میں کمی بیشی بہت کم ہوتی ہے۔واضح رہے کہ اگر بلڈ شوگر کی سطح میں بہت تیزی سے کمی یا اضافہ ہو تو اس سے جسم میں ورم بڑھتا ہے جبکہ میٹابولزم تنا کا شکار ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وقت گزرنے کے ساتھ موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2سے متاثر ہونیکا خطرہ بڑھتا ہے۔نیند اور میٹابولک امراض کے درمیان تعلق پہلے بھی سامنے آچکا ہے مگر زیادہ تر تحقیقی کام درمیانی عمر کے افراد پر ہوا ہے۔ محققین نے بتایا کہ زیادہ تر نوجوانوں کو لگتا ہے کہ ذیابیطس درمیانی عمر کے افراد کا مرض ہے، مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ نوجوانی میں بھی بلڈ شوگر کی سطح بڑھ سکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ رات کی نیند کا دورانیہ جتنا طویل ہوگا، اگلے دن بلڈ شوگر کی سطح بھی زیادہ وقت تک مستحکم رہیگی۔ تحقیق میں یہ بھی دریافت ہوا کہ طویل نیند سے صبح کے وقت بلڈ شوگر کی سطح معمولی سی زیادہ ہوتی ہے۔محققین کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے بھی درحقیقت فائدہ ہی ہوتا ہے، کیونکہ دن کے آغاز میں بلڈ شوگر کی سطح میں معمولی اضافہ میٹھا کھانے کی خواہش کی روک تھام کرتا ہے اور مجموعی طور پر بلڈ شوگر کی سطح مستحکم رہتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جسم دن بھر کی سرگرمیوں کے لیے تیار ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ تحقیق میں یہ تعین نہیں ہوسکا کہ نیند اور بلڈ شوگر کے درمیان کونسا مکینزم کردار ادا کرتا ہے۔مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ نیند واقعی صحت کے لیے اہم ہے اور صرف دماغ نہیں بلکہ جسمانی صحت کے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں