تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کردہ ناکہ بندی کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی کارروائی کرے گا جو یاد رکھی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور سمندری قزاقی کے مترادف ہیں۔ایرانی حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا عالمی تجارت میں مداخلت کر رہا ہے اور ایرانی املاک پر غیر قانونی قبضہ کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف ایران کو بھرپور جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی سخت مقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی عسکری تیاری جاری ہے اور ممکنہ اہداف کی فہرستیں مسلسل اپ ڈیٹ کی جا رہی ہیں۔ فوجی حکام کے مطابق اگرچہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم ایران اسے حتمی امن نہیں سمجھتا اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے۔یاد رہے کہ امریکی صدر نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا، ایران کے خلاف ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف مختصر مگر طاقتور حملوں کا منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان ممکنہ حملوں میں ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ تہران پر دبا بڑھایا جائے اور اسے دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطی بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔




