ایشیائی اور یورپی منڈیوں میں پاکستانی پھلوں کی مانگ بڑھ گئی

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان کے فروٹ بیگنگ پروگرام کو جاپان، جنوبی کوریا، چین اور یورپی یونین جیسی اعلی عالمی منڈیوں سے حوصلہ افزا پذیرائی مل رہی ہے، جس سے ملکی زرعی پیداوار کے معیار اور مارکیٹ میں مسابقت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بات پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد نصیر نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے ساتھ ایک اجلاس میں بتائی، جہاں انہوں نے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مارکیٹنگ سے متعلق بریفنگ دی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی وزیر تجارت نے پی ایچ ڈی ای سی کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ ملک کے ہارٹیکلچر سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیے ویلیو ایڈیشن میں تیزی لائیں، پروسیسنگ ٹیکنالوجیز کو جدید بنائیں اور برآمدات پر مبنی اقدامات کریں۔پی ایچ ڈی ای سی کے سی ای او محمد نصیر نے ادارے کی کامیابیوں، جاری منصوبوں اور ہارٹیکلچر برآمدات بڑھانے کے ساتھ کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کیا۔وزیر تجارت نے پی ایچ ڈی ای سی کے فروٹ بیگنگ اقدام کو ایک انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے سراہا، جس نے پاکستانی پھلوں کے معیار، ظاہری خوبصورتی اور برآمدی مسابقت میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔رپورٹ کے مطابق انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ اس منصوبے کو صرف آم، کیلے اور امرود تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے کھجور جیسی اہم تجارتی فصلوں کے علاوہ انگور اور آڑو تک بھی وسعت دی جائے۔جام کمال نے طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے پی ایچ ڈی ای سی کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان کی پیپر مینوفیکچرنگ انڈسٹری، نجی شعبے کے پارٹنرز اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر فروٹ بیگنگ کے لیے درکار مواد مقامی سطح پر تیار کرنے کے امکانات تلاش کریں، تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور یہ ٹیکنالوجی ملک بھر کے کاشتکاروں کے لیے سستی ہو سکے۔وفاقی وزیر نے پی ایچ ڈی ای سی کے فریز ڈرائنگ، سپرے ڈرائنگ اور فروٹ ڈی ہائیڈریشن ٹیکنالوجیز کے فروغ کے اقدامات کو بھی سراہا اور انہیں طویل شیلف لائف کے حامل، غذائیت اور ذائقے کو برقرار رکھنے والے معیاری ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کے لیے گیم چینجر مواقع قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجیز کاٹیج انڈسٹری اور چھوٹے پیمانے کے زرعی پروسیسنگ کاروباروں کی ترقی، روزگار کے مواقع اور برآمدی آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔انہوں نے پی ایچ ڈی ای سی کو ہدایت دی کہ فریز ڈرائنگ منصوبوں کو شمالی پاکستان اور بلوچستان تک وسعت دی جائے اور صوبے میں چینی تعاون سے چلنے والے ویلیو ایڈیشن منصوبوں کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنایا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پی ایچ ڈی سی مرچ کاشتکاروں میں سولر ٹنل ڈرائر بھی تقسیم کر رہا ہے، جس کا مقصد افلاٹوکسن آلودگی کم کرنا، پیداوار کے معیار میں بہتری لانا اور پاکستانی مرچ کی برآمدی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔رپورٹ کے مطابق پی ایچ ڈی سی کے مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے صوبائی سطح پر ہارٹیکلچر ایکسپو منعقد کرنے، تقریبا 100 ہارٹیکلچر سٹیک ہولڈرز کے لیے سبسڈی یافتہ سرٹیفیکیشن سپورٹ پروگرام شروع کرنے، کاروباری روابط کو فروغ دینے، مارکیٹ انٹیلیجنس تیار کرنے اور ہارٹیکلچر ویلیو چینز کو مضبوط بنانے کے لیے کلسٹر اور پروڈکٹ میپنگ کے منصوبوں کی توثیق کی۔جام کمال نے مزید زور دیا کہ ایگزم بینک آف پاکستان جیسے اداروں کو کاٹیج انڈسٹریز اور چھوٹے پیمانے کے پروسیسرز کے کلسٹرز کو زیادہ مالی معاونت فراہم کرنی چاہیے، تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجیز اپنا کر برآمدی کاروبار کو وسعت دے سکیں۔انہوں نے یہ ہدایات بھی جاری کیں کہ آئندہ منعقد ہونے والی فوڈ ایگ نمائش میں پی ایچ ڈی ای سی کے تعاون یافتہ اداروں اور نمائش کنندگان کو زیادہ سے زیادہ شرکت کا موقع دیا جائے، تاکہ مارکیٹ تک رسائی، کاروباری روابط اور برآمدی مواقع میں اضافہ ہو سکے۔اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر تجارت نے برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پی ایچ ای ڈی سی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور صوبائی حکومتوں، تحقیقی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ مضبوط رابطہ کاری پر زور دیا، تاکہ مثر ہارٹیکلچر کلسٹرز تیار کیے جا سکیں، سپلائی چینز مضبوط ہوں اور ہارٹیکلچر سیکٹر کی مکمل برآمدی صلاحیت بروئے کار لائی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں