فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سپریم انجمن تاجران (امین بٹ گروپ) کے آفس میں آٹھ بازاروں ‘ گول بازاروں اور اس سے ملحقہ گلیوں کی تاجرتنظیموں کے منتخب عہدیداروںکا اجلاس چیئرمین امین بٹ کی صدارت میں ہوا جس میں ایف بی آر کی طرف سے بینکوں میں دو لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن پر ٹیکس کی کٹوتی’ رضاکاروں کے ذریعے دکانوں کو سیل کرنے اور ٹیکس گزار تاجروں پر پرچے دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی’اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سپریم انجمن تاجران (امین بٹ گروپ) کے چیئرمین محمد امین بٹ’ چیف آرگنائزر میاں مبین شہزاد’ جنرل سیکرٹری عباس حیدر شیخ دیگر مقررین نے کہا کہ ہم ایف بی آر کے کالے قوانین 37A-37B کے نفاذ کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں ایسے کالے قوانین کو فوری واپس لیا جائے تاجروں میں اضطراب کی کیفیت کو ختم کیا جائے’ مقررین نے مطالبہ کیا کہ اگر کوئی تاجر تجاوزات کرتا ہے تو اسے تین وارننگ دی جائیں اگر پھر بھی وہ باز نہ آئے تواس کا سامان اٹھا کر ضبط کر لیا جائے مگر اس کی دکان سیل نہ کی جائے کیونکہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے کاروبار پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں’ جب دکان سیل ہوتی ہے کہ پندرہ بیس دن دکان کھلوانے میں لگ جاتے ہیں جو تاجروں کا معاشی قتل ہے’ اس کے علاوہ اگر کسی تاجر کی دکان سیل کرنی ہے تو کوئی ذمہ دار حکومتی عہدیدار آئے رضاکاروں سے دکانیں سیل نہ کروائی جائیں’ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ڈسپلے کیلئے تین فٹ جگہ دی جائے گی مگر ابھی تک وہ وعدہ وفا نہیں ہو سکا’ ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈسپلے کیلئے تین فٹ جگہ دی جائے’اس کے علاوہ آٹھ بازاروں کووہیکل فری بنانے کیلئے انٹری کے راستے مکمل طور پر بند کرنے کا پروگرام ہے اس پر عملدرآمد روکا جائے کیونکہ اگر کسٹمر بازار میں نہیں آئے گا تو کاروبار کیسے چلے گا’انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر ہمارے جائز مطالبے نہ مانے گئے تو ہم اپنی اپنی دکانوں کو خود بند کر کے چابیاں ڈپٹی کمشنر کے سپرد کر دیں گے اور شہر کی دیگر تاجر تنظیموں کے ساتھ مل کر سخت احتجاج کریں گے’ اس موقع پر پنجاب حکومت کی طرف سے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ(CCD) کے قیام کو سراہا گیا اور امید کا اظہار کیا گیا کہ (CCD) والے شفافیت اور ایمانداری سے جرائم پیشہ عناصر کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور کسی بے گناہ کو سزا نہیں دیں گے’ اس کے علاوہ عاشورہ محرم کے دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا گیا’ جن کی بہترین حکمت عملی کی وہ سے شہر بھر میں کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔




