فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مہنگائی کے ستائے ہوئے کو عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے’بے جا ٹیکسوں کو ختم کیا جائے اور عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں’ ان خیالات کا اظہار فیصل آباد الیکٹرونکس اینڈ انسٹالمنٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس سے گروپ لیڈر رانا محمد سکندراعظم خاں ‘ صدر چوہدری حبیب الرحمن گل’ جنرل سیکرٹری محمد علی و دیگر مقررین نے کیا’ اجلاس میں سینئر وائس چیئرمین رانا فخرحیات’ وائس چیئرمین چوہدری عاصم حبیب سمرائ’ فنانس سیکرٹری ملک وقاص احمد ‘ نائب صدور ‘ میاں نذاکت علی’ خرم شہزاد’ رانا طاہر محمود خاں’ رانا طارق عزیز’ چوہدری یعقوب گجر ‘ محمد علی ڈوگر’ چوہدری اویس اقبال’ ملک اعجاز احمد کے علاوہ ایسوسی ایشن کے ممبران نے کثیر تعداد نے شرکت کی’ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد الیکٹرونکس اینڈ انسٹالمنٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اپنی تجاویز چیمبر آف کامرس کو دی ہیں تاکہ وہ ان تجاویز کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب تک پہنچائیں’ مقررین نے کہا کہ عوام کے صبر کا امتحان لینے کی بجائے ملک بھر کے بجلی صارفین کو 300 یونٹ فری دینے کا وعدہ پورا کیا جائے’ انہوں نے وزیر اعظم میاں شہبازشریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے مالی سال کے وفاقی و صوبائی بجٹ کو عوام وتاجر دوست بنانے کیلئے بجلی و گیس کے ٹیر ف میں کمی اورپورے ملک کے ہرشعبہ کیلئے یکساں ٹیرف مقرر کیاجائے’ ٹیکسوں کے نفاذ میں غریب و کم آمدنی والے طبقے کو نظرانداز نہ کیا جائے’ ٹیکسوں کی بھرمار سے تاجر برادری انتہائی پریشان ہے’ مہنگی بجلی ، گیس اورٹیکسوں کی بھرمار ، قیمتوں میں روز بروز ہونے والے اضافے کی وجہ سے ملک بھرکی بزنس کمیونٹی کودیوار سے لگا رکھا ہے اور انکے لئے اپنا کاروبار چالو رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے’ موجودہ معاشی حالات میں مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے آئندہ بجٹ میں اضافی ٹیکسوںکا بوجھ نہ ڈالا جائے ‘ تاجروں پر لگائے گئے غیر ضروری ٹیکس ختم کرکے تاجروں کو ریلیف دیا جائے’ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام عاجز آچکے ہیں ‘ نئے مالی سال کے بجٹ میں نئے ٹیکس اور آئندہ ماہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھے گی حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے عوام کو ریلیف ملے ‘ قوم مزید مہنگائی کی متحمل نہیں ہوسکتی بے روزگاری بڑھ رہی ہے جس سے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے جس کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ روز گار کے مواقع فراہم کئے جائیں’ مقررین نے کہا کہ عوام کا اور امتحان نہ لیا جائے اور ان کے مرجھائے ہوئے چہروں پر مسکراہٹ لانے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکے۔




