لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ کی امریکاکے ساتھ تجارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کے باعث نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔برطانوی ادارہ برائے قومی شماریات(او این ایس)کے جاری کردہ اعداد و شمار نے بتایا کہ قیمتی دھاتوں کے علاوہ برطانیہ کی امریکہ کو اشیا کی برآمدات اپریل 2025 میں ٹیرف کے نفاذ کے بعد 1.5 ارب پائونڈ یا 24.7 فیصد کم ہو گئیں، اور اس کے بعد سے یہ سطح نسبتا کم ہی رہی ہے۔خصوصی طور پر برطانیہ کی گاڑیوں کی امریکا کو برآمدات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو ٹیرف کے نفاذ کے بعد مسلسل کم سطح پر برقرار ہیں۔دوسری جانب، دسمبر 2025 سے مسلسل تین ماہ تک برطانیہ کی امریکہ سے درآمدات (قیمتی دھاتوں کے علاوہ)اس کی برآمدات سے زیادہ رہی ہیں۔ امریکہ بدستور برطانیہ کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار اور تیسرا بڑا درآمدی شراکت دار ہے۔یاد رہے کہ جنوری 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درآمدی اشیا پر مختلف ٹیرف عائد کیے، جن میں اپریل 2025 میں برطانیہ سے آنے والی بیشتر اشیا پر 10 فیصد عمومی ٹیرف بھی شامل ہے۔تاہم مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت برطانوی گاڑیوں کی محدود تعداد پر ٹیرف میں کمی اور اسٹیل و ایلومینیم کی برآمدات پر ٹیرف ختم کرنے کی شق شامل ہے، بشرطیکہ وہ سپلائی چین کے سکیورٹی تقاضے پورے کریں۔




