اسلام آباد (بیوروچیف) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر روکنے اور آئینی و قانونی تقاضے کے تحت معینہ مدت کے اندر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے نئی قانون سازی کی تجویز باقاعدہ طور پر حکومت کو پیش کردی ہے۔الیکشن کمیشن نے تجویز کیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے سے 120دن پہلے کی قانونی پابندی کے موثر نفاذ کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے تا کہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات 4 سالہ مدت ختم ہونے پر مروجہ قانون کے تحت کروائے جا سکیں، اس طرح مدت ختم ہونے کے بعد لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں کوئی ترمیم نافذ نہیں ہو سکے گی، اس سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کو روکا جا سکے گا، آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت بلدیاتی انتخابات کروانا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمے داری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد میں مشکلات کا سامنا ہے اور صوبے معیاد مکمل ہونے کے بعد بلدیاتی قانون بدل دیتے ہیں جس کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کا وقت پر انعقاد ممکن نہیں رہنا۔ذرائع کے مطابق پنجاب اور اسلام آباد میں 2021 سے نئے بلدیاتی انتخابات لازمی قانونی تقاضا تھا جسے پورا نہیں کیا جا سکا، جب بھی الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کیلئے مروجہ قانون کے تحت حلقہ بندیاں مکمل کرتا ہے، حکومت کی طرف سے متعلقہ قانون بدل دیا جاتا ہے، جس کے بعد ساری انتخابی مشق ضائع ہو جاتی ہے۔ اسلام آباد اور پنجاب میں الیکشن کمیشن نے مروجہ قانون کے تحت 3 مرتبہ بلدیاتی حلقہ بندیاں مکمل کیں لیکن انتخابی شیڈول سے قبل ہی قانون میں تبدیلی کر دی جاتی ہے، پنجاب، اسلام آباد کے بعد خیبر پختونخواہ بھی اسی طرز عمل کا مظاہرہ کر رہا ہے جہاں بلدیاتی ادارے معیاد مکمل کر چکے اور وہاں نئے انتخابات کی تمام تیاریاں مکمل تھیں لیکن صوبائی انتظامیہ نے قانون بدل دیا ہے اور ویلج کونسل جو کہ پہلے 10 سے 15 ہزار کی آبادی پر مشتمل ہوتی تھی اب اس کی آبادی کی تعداد بڑھا کر 30 سے 40 ہزار کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیاں کرنا ہوں گی۔الیکشن کمیشن نے تاخیر ی حربے روکنے کے لیے تجویز کیا ہے کہ کسی صوبے یا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات اس قانون کے تحت ہوں گے، جو بلدیاتی اداروں کی معیاد مکمل ہونے پر رائج ہو گا اور معیاد مکمل ہونے کے بعد قانون میں ترمیم نہیں کی جا سکے گی۔اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو بھی اس ضمن میں مراسلے بھیج دیے ہیں۔




