بلڈشوگرہائی یا لو’ آنکھیں سب بتا دیں گی

کراچی ( بیو رو چیف )طویل عرصے تک خون میں شوگر کی سطح کا بڑھا رہنا نہ صرف دل، گردوں اور اعصاب کو متاثر کرتا ہے بلکہ آنکھوں کے لیے بھی ایک خاموش خطرہ بن جاتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں میں اگر بلڈ شوگر قابو میں نہ رہے تو سب سے پہلے اس کے اثرات آنکھوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جو وقت کے ساتھ بینائی کی کمزوری مستقل نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔آج کے دور میں غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی، ذہنی دبا اور موروثی عوامل کی وجہ سے ذیابیطس تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ایک بار یہ مرض لاحق ہو جائے تو اس کا مثر حل صرف یہی ہے کہ شوگر کی سطح کو مستقل طور پر کنٹرول میں رکھا جائے۔ماہرین کے مطابق جب خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو آنکھ کے پردے (ریٹینا) میں موجود باریک خون کی نالیاں متاثر ہونے لگتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں آنکھوں میں سوجن اور پانی بھرنے کا احساس ہوتا ہے۔اس کے علاوہ نظر کا دھندلا ہونا، چیزوں کو پہچاننے میں دشواری، ایک یا دونوں آنکھوں میں کمزوری کا احساس ہونا۔ اگر یہ کیفیت طویل عرصے تک برقرار رہے تو آنکھ کی چھوٹی نالیاں پھٹ سکتی ہیں جس سے بینائی مستقل طور پر متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں میں موتیا بند اور گلوکوما جیسی بیماریاں لاحق ہونے کا امکان بھی عام افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، جو آپٹک نرو کو نقصان پہنچا کر نظر کمزور کر سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں