اسلام آباد (بیوروچیف) پہلگام حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے چلتے پاکستان نے 24اپریل کو بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود ایک ماہ کیلئے بند کر دی تھیں۔پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ائیر لائنز کو ایک ماہ میں 800کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم اب پابندی مزید برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اعلان آج یا کل متوقع ہے، جس کے بعد نوٹم جاری کیا جائے گا۔ پابندی برقرار رہنے کی صورت میں بھارتی حکومت نے اگر ائیر لائنز کے مطالبات کے مطابق خصوصی مدد نہیں کی تو انہیں آپریشن برقرار رکھنے کیلئے غیر معمولی اور بڑے فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی ائیرلائنز کو صرف ایندھن کی مد میں لگ بھگ 500کروڑ روپے کا جھٹکا لگا ہے جبکہ اسٹاپ اوور کے 30دن کے اخراجات 3 ارب روپے لگائے گئے ہیں، بھارتی ائیر لائن کی پروازوں کو 2 سے 4 گھنٹے تک اضافی سفر کرنا پڑ رہا ہے مگر یہاں 150 گھنٹے کا حساب کتاب سامنے رکھا گیا ہے۔بھارت سے امریکا، کینیڈا، یورپ، برطانیہ یا دیگر ممالک آنے جانے کیلئے 75 بوئنگ اور 75 ائیر بس طیاروں کے روزانہ 2 گھنٹے اضافی سفر پر 5 لاکھ 57 ہزار 625 ڈالر کا اضافی ایندھن جلانا پڑا ہے، ائیر انڈیا اور دیگر بھارتی ائیرلائنز کے صرف ایندھن کے اضافی اخراجات 5 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں۔بندش سے سب سے زیادہ ائیرانڈیا متاثر ہوئی ہے جو حکومت سے امداد کا مطالبہ کرچکی ہے اس کے علاوہ آکاسا ائیر، اسپائس جیٹ، انڈیگو ائیر اور ائیرانڈیا ایکسپریس کی پروازیں بھی پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے جزوی متاثرہیں۔ امرتسر، دہلی، احمدآباد، بنگلور جے پور کی پروازوں کو لگ بھگ پورے بھارت پر سفر کرکے بحیرہ عرب سے گزرنا پڑ رہا ہے، یہ پابندی برقرار رہی تو بھارتی ائیر لائنز کو کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے علاوہ روٹس کے رد و بدل کے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔




