میری والدہ چاہتی تھیں کہ میں ڈاکٹر بنوں۔ میری بیٹی نے میرا یہ خواب پورا کرنے میں مدد کی۔یہ کہنا ہے انڈین ریاست تمل ناڈو کے ایک چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھنے والی اموتھاولی مانیوانن کا، جن کا بچپن خاصا مشکل تھا۔وہ انڈیا کی پسماندہ دلت برداری سے تعلق رکھتی ہیں۔ بچپن میں ہی اپنے والد کو کھو دینے والی اموتھاولی پولیو کی بھی مریض ہیں۔بچپن سے ہی اموتھاولی کو ڈاکٹر بننے کا شوق تھا لیکن وہ میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے درکار نمبر حاصل نہیں کر سکیں اور پھر انھوں نے فزیو تھراپی میں اپنا کیریئر بنایا۔گذشتہ برس انھوں نے میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے اپنی بیٹی کی مدد کی ٹھانی تاکہ وہ میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے امتحان کی بھرپور تیاری کر سکیں۔لیکن اس دوران انھیں خود بھی اپنا ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کرنے کا خیال آیا اور انھوں نے خود بھی اس کی تیاری شروع کر دی۔ان کی خواہش نے انھیں سخت محنت کرنے کی ترغیب دی اور ان کی جدوجہد کا بہترین نتیجہ نکلا۔ اموتھاولی نے اپنی بیٹی کے ساتھ امتحان پاس کیا اور اب دونوں میڈیکل کالجز جانے کے لیے تیار ہیں۔انچاس سالہ اموتھاولی کہتی ہیں کہ میں نے پچھلے چھ ماہ اچھی تیاری کی۔ ایک سرکاری میڈیکل کالج میں جگہ ملنے پر میں حیران رہ گئی۔انڈیا کے سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ لینا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ لگ بھگ 24 لاکھ طلبہ ہر سال ایک لاکھ 20 ہزار نشستوں کے لیے داخلہ ٹیسٹ میں شرکت کرتے ہیں۔ان میں سے آدھی یعنی 60 ہزار نشستیں سرکاری میڈیکل کالجز کے لیے مختص ہوتی ہیں جن کی فیس بھی انتہائی کم ہوتی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اموتھاولی کا کہنا تھا کہ سماکتھا اکثر مجھے سوالات کے جوابات چیک کرنے کا کہتی تھی۔ اس دوران اچانک مجھے بھی خیال آیا کیوں نہ میں بھی داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کروں۔اموتھالی 30 برس قبل سکول چھوڑ چکی تھیں اور اس زمانے میں سکول کا نصاب بھی مختلف تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے فزکس بہت زیادہ مشکل لگی جس میں بہت سے فارمولے اور نمبرز تھے جو مجھے سمجھ میں نہیں آ رہے تھے۔ لیکن مجھے بیالوجی مجھے اچھی لگی جو میرے لیے اطمینان کی بات تھی۔میڈیکل داخلہ ٹیسٹ میں امیدواروں سے مختلف سوالات کے جوابات کے لیے چوائس دی جاتی ہے۔ غلط جواب دینے پر ان کے زیادہ نمبر کٹتے ہیں۔ایک سوال کے جواب کے لیے چار آپشنر دیے جاتے ہیں جن کے جوابات بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں۔ان کے بقول میری بیٹی نے درست جواب کے انتخاب کا طریقہ بتایا جس سے کافی مدد ملی۔اموتھالی کی بیٹی نے اپنی والدہ کو تمام سوالات کے جوابات جلدی دینے کی پریکٹس کرائی اور تکے سے کسی سوال کا جواب دینے سے روکا تاکہ منفی مارکنگ سے بچا جا سکے۔18 سالہ سمیوتھا کہتی ہیں کہ جب میں اپنی کلاس سے واپس آتی تو ماں مجھے پانچ سوالات پوچھنے کا کہتیں۔ عام طور پر وہ تین کا غلط جواب دیتیں جس سے مجھے غصہ آتا۔ان کے بقول میری والدہ کو بیالوجی پسند تھی۔ لیکن انھوں نے فزکس اور کیمسٹری میں بھی بھرپور محنت کی۔ اگر وہ کچھ اور محنت کر لیتیں تو زیادہ نمبر حاصل کر سکتیں تھیں۔وہ کہتی ہیں کہ اپنی والدہ کو پڑھانے کی وجہ سے ان کی اپنی تیاری بھی بہت اچھی ہوئی۔ڈاکٹروں کو انڈیا میں اعلی سماجی حیثیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔قابل فخر ماں اور بیٹی کو دوستوں اور رشتہ داروں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے اموتھاولی نے اپنی طویل جدوجہد کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی سکول کی تعلیم 1994 میں مکمل کی جس کے بعد میں ڈاکٹرز بننا چاہتی تھیں، لیکن داخلے کا امتحان پاس نہیں کر سکیں جس نے انھیں شدید صدمے سے دوچار کیا۔وہ کہتی ہیں کہ میرے نمبرز اتنے زیادہ نہیں تھے کہ میں میڈیکل کالج میں داخلہ لے سکوں، لہذِا مجھے فزیو تھراپی الاٹ کر دی گئی۔ان کے بقول میری والدہ اس سب پر خوش نہیں تھیں اور وہ بے ساختہ رونے لگتی تھیں۔ لیکن میں نے انھیں بتایا کہ فزیو تھراپی بھی ایک طرح سے طبی کام ہے اور اس کے ذریعے بھی مریضوں کی خدمت ہو سکتی ہے۔اموتھالی کی والدہ ایک سکول میں ٹیچر تھیں اور چار بچوں کو پالنے کے لیے انھیں شدید محنت کرنا پڑی۔وہ کہتی ہیں کہ اب میں اپنا خواب پورا کر چکی ہوں، لیکن مجھے افسوس ہے کہ یہ سب دیکھنے کے لیے میری والدہ زندہ نہیں ہیں۔پیشے کے اعتبار سے وکیل اموتھالی کے شوہر منیوانن اپنی بیوی اور بیٹی پر فخر کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گو کہ میری اہلیہ ایک ہسپتال میں نوکری کرتی تھیں، لیکن انھیں ملال تھا کہ وہ خود ڈاکٹر نہیں بن سکیں۔ لیکن اپنی بیٹی کی وجہ سے وہ اپنا خواب پورا کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔اموتھالی کو ریاست تمل ناڈو کے ہی ایک سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ ملا ہے۔ کئی برسوں سے ہسپتال میں نوکری کرتے کرتے اب ان کے لیے یہ ماحول مانوس ہے۔گو کہ انھیں اپنے سے کئی برس چھوٹے میڈیکل سٹوڈنٹس کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا، لیکن ان کے بقول یہ ان کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے۔وہ کہتی ہیں کہ تمام طلبہ میری بیٹی کے عمر کے ہوں گے۔ مجھے ان کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہو گا۔دوسری جانب سمیکتھا کو ابھی یہ نہیں پتا کہ ان کا داخلہ کس میڈیکل کالج میں ہوا ہے۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ اگر ان کا داخلہ بھی والدہ والے میڈیکل کالج میں ہو جاتا ہے تو انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔




