تھانہ کلچر نہ بدل سکا،پولیس کی میرٹ پر تفتیش اور انصاف فراہمی دعوؤں تک محدود

جڑانوالہ (صابر گھمن سے) ”حکومتیں بدلیں اقتدار بدلے” نہیں بدلا تو تھانہ کلچر نہ بدلا،تفتیشی افسران کی جانب سے سنگین مقدمات میں جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے باوجود زیر حراست الزام علیہان کیساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کا بڑا انکشاف،اغوا و تشدد کے درج مقدمات میں نامزد الزام علیہان سے سنگل، رسیاں، ڈنڈے سوٹے برآمد نہ کروانے کے معاملات نے پولیس تفتیش پر بڑے سوالات کھڑے کر دئیے،عوامی سماجی حلقوں کا وزیر اعلی پنجاب، ائی جی پنجاب سمیت دیگر ارباب اختیار سے پولیس اصلاحات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اقتدار کا اعلیٰ منصب حاصل ہوا،اقتدار حاصل ہونے پر حکمران طبقہ کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کئے گئے اور تھانہ کلچر سمیٹ سرکاری محکموں میں تبدیلیوں کیلئے اصلاحات کی گئیں مگر بدقسمتی دعوے سیاسی بیانات تک محدود ہو چکے ہیں ذرائع کے مطابق تھانہ جات میں درج اغوا و تشدد کے مقدمات میں ملوث الزام علیہان کو سزائیں دلوانے کی بجائے مبینہ طور پر عدالتوں سے ضمانتیں کروانے اور ریلیف فراہم کروانے کا انکشاف ہوا ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اغوا و تشدد کے سنگین مقدمات کی تفتیش کرنیوالے پولیس افسران کی جانب سے زیر حراست مبینہ الزام علیہان کا 3 دن سے 14 دن تک کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے باوجود دوران تفتیش الزام علیہان سے سنگل،رسیاں ڈنڈے سوٹے،لوہے کے راڈ برآمد نہ کروانے جانے کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے جبکہ مقدمات میں ملوث و نامزد زیر حراست الزام علیہان سے مبینہ طور پر گٹھ جوڑ کرکے انہیں عدالتوں سے ضمانتیں کروانے کی سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے، تفتیشی افسران کی جانب سے سنگین مقدمات میں ملوث و نامزد زیر حراست مبینہ الزام علیہان کو فراہم کردہ مبینہ سہولت کاری کے اقدامات نے پولیس کی جانب سے میرٹ پر تفتیش و انصاف فراہم کرنے کے دعووں کی نفی کر دی ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تفتیشی افسران کی جانب سے اغوا و تشدد کے مقدمات کے مدعیان کو تھانہ جات میں بلوا کر نہ صرف مختلف حیلوں بہانوں سے ذلیل وخوار کیا جاتا ہے بلکہ دوران تفتیش الزام علیہان کے سامنے الٹا مبینہ طور پر مقدمات خارج کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے تھانہ جات کی اصلاحات کیلئے کئے گئے مثالی اقدامات کو چند پولیس افسران نے بالا طاق رکھتے ہوئے مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے ایسے چند افسران نہ صرف محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ مبینہ طور پر انصاف کا قتل عام بھی کرنے کے مرتکب پائے جا رہے ہیں۔ عوامی سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب پولیس، آر پی او، سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے ایسے پولیس افسران کا سخت محاسبہ کیا جائے اور تھانہ جات میں آنیوالے مدعی مقدمات و سائلین کو حقیقی معنوں میں میرٹ پر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں