لاہور (بیوروچیف)وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمی بخاری نے تھیٹر انڈسٹری سے وابستہ شخصیات قیصر ثنا اللہ اورنسیم وکی سمیت دیگر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیکرٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پکار اطہر مسعود اور اصغر ندیم سید بھی شریک تھے۔ اس موقع پر نئے ڈرامہ ایکٹ سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔عظمی بخاری نے بتایا کہ حکومت ایسا ایکٹ لانا چاہتی ہے جو تھیٹر انڈسٹری کی مشاورت سے تشکیل دیا جائے۔ اس سلسلے میں تھیٹر ایسوسی ایشن کی دو تجاویز کو ڈرامہ ایکٹ میں شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تھیٹر میں فحاشی پھیلانے والوں کے خلاف سخت ایکشن کے بعد ڈراموں کے معیار میں واضح بہتری آئی ہے، تاہم بعض تھیٹرز کے حوالے سے شکایات اب بھی موصول ہوتی ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب تک تھیٹر سے فحاشی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوگا، سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔ گلی محلوں میں تھیٹرز قائم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ تھیٹر کے اوقات کار میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسا ماحول بنایا جائے گا جہاں فیملیز بلا خوف و ہچکچاہٹ ڈرامے دیکھنے آ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تھیٹر ڈراموں میں خواتین کو نشانہ بنا کر جملے بازی برداشت نہیں کی جائے گی۔عظمی بخاری نے زور دیا کہ تھیٹر میں سماجی اور مثبت موضوعات پر ڈرامے پیش کیے جائیں اور پڑھی لکھی یوتھ کو اس پلیٹ فارم پر آگے لایا جائے تاکہ تھیٹر کا مجموعی ماحول بہتر اور صحت مند تفریح کا ذریعہ بن سکے۔




