ثقلین مشتاق نے پاکستان کے کوچنگ سسٹم پر سوالات اٹھا دیئے

لاہور (سپورٹس نیوز) سابق کرکٹر ثقلین مشتاق نے پاکستان کے کوچنگ سسٹم پر سوالات اٹھا دیے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق کرکٹر ثقلین مشتاق نے کہا کہ میں نے 2005-06 میں آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا وہاں پر انہوں نے اسپن کیمپ لگایا جو بیس دن کا تھا، وہاں میرے اور شین وارن کے علاوہ پورے آسٹریلیا سے اسپنرز اور اسپن کوچز بلائے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ بیٹرز کو بلایا گیا تھا جو اسپن کو بہتر طریقے سے کھیل سکیں، گریگ چیپل ادھر ہیڈ تھے۔ثقلین مشتاق نے کہا کہ سب سے پہلے وہ ان کے مائنڈ سیٹ پر کام کررہے تھے، کوچنگ میں چار چیزیں ہوتی ہیں جن پر کوچ بنایا جاتا ہے، ٹیکنیکلی، ٹیکٹیکلی، مینٹلی اور فزیکلی مگر اس کا سیکوئنس نکالا جائے تو پہلا مینٹلی، دوسرا فیزیکل، تیسرا ٹیکنیکل اور چوتھا ٹیکٹیکل ہوتا ہے جو آپ میچ میں جاکر کررہے ہوتے ہیں۔سابق کرکٹر نے کہا کہ اگر آپ کا مائنڈ سیٹ نہیں بنا ہوگا تو کچھ بھی نہیں کرسکتے، آسٹریلیا میں اس پر اتنا کام ہورہا تھا کہ ہر سطح پر بات ہورہی تھی، کنڈیشن کو بتایا جارہا ہے، بیٹرز کی ٹیکنیک بہتر کی جارہی تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مجھے 2019 میں ہیڈ آف پلیئر ڈیولپمنٹ بنایا گیا تھا جہاں سارے نیشنل فریم ورک بنایا اس کے بعد رجیم چینج ہوگئی اور مجھے دوسری جگہ بھیج دیا گیا اب مجھے نہیں پتا یہاں ایسا ہورہا ہے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں