اسلام آباد(بیوروچیف) پاکستان میں جنسی تشدد سے متعلق قوانین کو وسعت دینے، سزائوں میں اضافہ کرنے اورطریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی اصلاحات ابھی تک متاثرہ افراد کے لیے مؤثر انصاف اور تحفظ میں خاطرخواہ بہتری نہیں لا سکیں۔ یہ انکشاف عالمی غیر سرکاری تنظیم، ایکوایلیی نا(Now Equality) کی حالیہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ رپورٹ بعنوان پاکستان میں جنسی تشدد کے خلاف قانونی ردعمل: نفاذ اور انصاف تک رسائی میں درپیش چیلنجز (Legal Response to Sexual Violence in Pakistan: Challenges in Enforcement and Access to Justice) کے مطابق قوانین کا ناقص نفاذ، تحقیقات اور مقدمات میں طویل تاخیر، اور عدالت سے باہر ہونے والے غیر قانونی سمجھوتے ایسے عوامل ہیں جو پاکستان میں ریپ کے مقدمات میں انتہائی کم، یعنی صرف 5.0 فیصد سزا کی شرح کا باعث بن رہے۔ یہ مقدمات کو ناقص شواہد جمع کرنے کے طریقہ کار اور سرکاری وکلا استغاثہ کی کمی مزید کمزور کرتی ہے۔ متاثرینِ کو مورد الزام ٹھہرانا ایک عام رجحان ہے، جبکہ پولیس، پراسی کی ورز اور عدالتیں اکثر ریپ اور رضامند ی کی فرسودہ اور محدود تشریحات استعمال کرتی ہیں۔ مزید براں، متاثرہ افراد کو قانونی امداد، نفسیاتی وسماجی معاونت، محفوظ پناہ گاہوں اور گواہوں کو موثر تحفظ تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایکوای لیی نا (Now Equality) کی گلوبل لیڈ جی کوء ہنٹ (Hunt Jacqui) نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے جنسی تشدد سے متعلق قوانین کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیشرفت کی ہے، تاہم اب ان کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا ضروری ہے۔ بہتر وسائل، تربیت اور احتساب کے ذ ریعے قوانین کے مستقل نفاذ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ہمیں ایسی تمام قانونی خامیوں کو دور کرنا ہوگا جو خواتین اور لڑکیوں کو غیر محفوظ بناتی ہیں، اور ساتھ ہی ریاستی معاون خدمات کو بہتر بنانا ہو گا تاکہ تمام متاثرہ افراد کو وہ انصاف مل سکے جس کے وہ مستحق ہیں۔ یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ پاکستانی قانون میں ریپ (عصمت دری) کی تعریف رضامندی کی عدم موجودگی پر مبنی ہے، یعنی جنسی عمل کے لیے آزاد اور رضاکارانہ رضامندی ضروری ہے۔ جسمانی تشدد کے شواہد لازمی نہیں، اور صرف متاثرہ فرد کی گواہی بھی سزا کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، قانون نافذ کرنے والے ادارے اکثر جسمانی چوٹ یا مزاحمت کے شواہد پر انحصار کرتے ہیں، اور جسمانی تشدد کے بغیر ریپ کے واقعات کو شک کی نگاہ سے د یکھتے ہیں۔ بعض عدالتیں غیر ضروری اضافی شواہد کا تقاضا کرتی ہیں، جبکہ دفاعی وکلا ، جرح کے دوران متاثرہ افرادکی ساکھ کو متاثرکرنے کے لیے ان کی ذاتی زندگی سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنسی تشدد کے مقدمات کی تحقیقات کمزور بنیادوں پہ کی جاتی ہیں۔ جبکہ وسائل کی کمی بھی’ شواہد جمع طبی تصدیق، جی سے ڈی این اے، پر کرنے،، محفوظ رکھنے اور ان کے تجزیے کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔ پولیس عموماً بہت زیادہ انحصار کرتی ہے اور دیگر اہم فرانزک اور غیر فرانزک شواہد کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ پاکستان ِ کے نظام انصاف کو مضبوط بنانے کے لیے شواہد اکٹھا کرنے کے عمل میں بہتری، سرمایہ کاری، اور مختلف اداروں کے درمیان موثر ہم آہنگی ضروری ہے۔ قوانین کے درست اطلاق کو یقینی بنانے کے لیے ِ نظام انصاف سے وابستہ تمام افراد کے لیے لازمی تربیت اور واضح رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے۔ خواتین کے معاملے میں یہ معائنہ ویمن میڈیکو لیگل آفیسر (WMLO) کے ذریعے کیا جانا ضروری ہوتا ہے، مگر ان کی کمی کے باعث متاثرین کو اکثر معائنے کے لیے دور دراز سفر کرنا پڑتا ہے، اور انہیں شواہد محفوظ رکھنے کے طریقہ کار سے بھی مکمل طور پر آگاہی نہیں ہوتی۔ ویمن میڈیکو لیگل آفیسرز (WMLOs) خود بھی کئی چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔ ان کے پاس اکثر وہ وسائل موجود نہیں ہوتے جن کی مدد سے وہ موثر طریقے سے اپنا کام انجام دے سکیں، اور نہ ہی انہیں بدلتے ہوئے قانونی تقاضوں کے مطابق مناسب تربیت ملتی ہے۔ مزید براں ازدواجی زیادتی اور محرم رشتوں کی جانب سے کی جانے والی جنسی زیادتی کو واضح طور پر جرم قرار دینا ضرور ی ہے۔ تاکہ ایسے قبیح جرائم کی رپورنگ میں اضافہ ہو اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ جبکہ ملک میں صوبوں کی سطح پر بچوں کی شادی سے متعلق الگ الگ قوانین موجود ہیں، اور شادی کی عمر میں یہ فرق نہ صرف الجھن پیدا کرتا ہے بلکہ ایسے خلا کو جنم دیتا ہے جس کی وجہ سے متاثرین کے لیے انصاف حاصل کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ وکیل اور رپورٹ کی مرکزی مصنفہ، سحر بندیال اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں: پاکستان میں جنسی تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے انصاف تک رسائی اب بھی ایک طویل اور کٹھن سفر ہے، ایک ایسا سفر جو تقریباً ناممکن ہی رہتا ہے۔ اگرچہ اکثر انہیں دوبارہ صدمے سے دوچار کرتا ہے اور بہت سوں کے لیے تو انصاف کا حصول قوانین میں اصلاحات ایک مثبت قدم ہیں، لیکن اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کا ہر سطح پر بشمول تھانوں میں، عدالتوں میں، اور ہماری کمیونیز میں عملی نفاذ کر کے عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ ہر متاثرہ فرد کو وہ تحفظ اور انصاف مل سکے جس کا وہ حق دار ہے۔




