جگر کی صحت کے لئے بہترین اور بدترین ڈرنکس

کراچی ( بیو رو چیف )گزشتہ چند برسوں کے دوران جگر پر چربی (فیٹی لیور) کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے جس میں نوجوانوں سمیت بچے بھی شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق غیر فعال طرزِ زندگی اور حد سے زیادہ پروسیسڈ غذاں کے ساتھ ساتھ میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال اس بیماری کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سوڈا، بوبا ٹی، انرجی ڈرنکس اور پیک شدہ فروٹ جوسز میں شوگر، خاص طور پر فرکٹوز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، یہ اضافی شوگر جگر میں جا کر چربی میں تبدیل ہو جاتی ہے جس سے فیٹی لیور، جگر پر سوزش اور انسولین مزاحمت(ذیابیطس)جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔غذائی و طبی ماہر ین نے جگر کی صحت کے لیے فائدہ مند اور نقصان دہ مشروبات کی فہرست جاری کی ہے تاکہ لوگ بہتر اور صحت مند انتخاب کر سکیں۔جگر کی صحت کے لیے فائدہ مند مشروبات،لیموں پانی جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے اور جگر کی قدرتی صفائی کے عمل کو سہارا دیتا ہے، اس میں موجود وٹامن سی جگر کے لیے مفید ہے۔بغیر دودھ اور چینی کے کافی پینے سے جگر میں چربی جمع ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جگر کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ہلدی کی چائے،ہلدی میں موجود جز کرکومن سوزش کم کرنے کی خصوصیات رکھتا ہے جو جگر کی صحت کے لیے مفید ہیں۔بغیر دودھ کے استعمال کی جانے والی بلیک ٹی جگر کے افعال بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔جگر کے لیے نقصان دہ مشروبات:سوشل میڈیا پر مقبول بوبا ٹی میں شوگر اور کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو جگر کے لیے نقصان دہ ہے۔سوڈا واٹر میں غذائیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جبکہ یہ جگر میں چربی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔انرجی ڈرنکس میں موجود زیادہ شوگر اور کیفین جگر پر اضافی دبا ڈالتی ہے۔یہ جوسز فائبر سے خالی اور اضافی شوگر سے بھرپور ہوتے ہیں جو جگر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے میٹھے مشروبات سے پرہیز اور قدرتی و سادہ مشروبات کا انتخاب نہایت ضروری ہے۔ مناسب غذا اور صحت مند طرززندگی اپنا کر جگر کی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں