ماضی قریب میں جائیں تو اس وقت سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا’ سرکاری محکموں میں تقرر وتبادلوں کے نتیجہ میں کوئی افسر فیصل آباد میں ذمہ داریاں سنبھالتا تو وہ صحافیوں سے ملنے کیلئے بے تاب نظر آتا، صحافیوں سے رابطوں کیلئے اسے بڑے جتن کرنا پڑتے’ تب کہیں وہ پریس کانفرنس کرتا’ محترم عبدالرشید غازی صاحب (مرحوم)’ حافظ اکرام اختر (مرحوم)’ شمس الاسلام ناز (مرحوم)’میاں شہباز احمد صاحب اور مقبول احمد لودھی صاحب پریس کانفرنس میں نمایاں ہوتے تھے اور ان کے پاس فیصل آباد میں تعینات ہونیوالے افسر کے بارے میں مکمل معلومات ہوتی تھیں،پریس کانفرنس کے دوران وہ ایسے سوالات کرتے کہ وہ مذکورہ افسر گہری سوچ میں ڈوب جاتا، سرکاری محکموں کے افسران کو ”نولفٹ” صحافیوں کا شیوہ تھا مگر آج سوشل میڈیا کے دور میں سب کچھ الٹ ہو گیا، اب کسی سرکاری محکمے کا افسر فیصل آباد تعینات ہوتا ہے تو اس کے پاس خوشامد کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ جی حضور کے لیے پہنچنے والے لوگوں کی اس افسر سے کوئی جان پہچان بھی نہیں ہوتی’ ”مان نہ مان میں تیرا مہمان” کے مصداق پھولوں کے گلدستے لیکر اس کے پاس پہنچنے والوں میں صحافیوں’ تاجر لیڈروں’ وکلاء اور سیاستدانوں سمیت ہر طبقہ فکر سے وابستہ لوگ شامل ہوتے ہیں، دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ جس بات کی وضاحت کرنا سرکار کا کام ہے وہ کام جی حضوری کرنیوالے سوشل میڈیا پر کرتے نظر آتے ہیں اور اسے کاسہ لیسی کی انتہا کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا، جی حضوری کلچر والے کون اور کیسے لوگ ہیں جو سرکاری افسروں کی چاپلوسی کرنے کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں جو تعینات ہونیوالے افسروں کی راہوں میں اپنی آنکھیں بچھا دیتے ہیں اور نئے افسروں کے لیے پھولوں کے گلدستے اور پھولوں کے ہار لیکر ان کے دفاتر پہنچ جاتے ہیں اور سرتسلیم خم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی حکم سر’ ہم آپ کیلئے حاضر ہیں’ میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے نئے CO عثمان غنی ابھی اپنے دفتر نہیں پہنچے تھے کہ وہاں جی حضوری کرنیوالے جمع ہو گئے جبکہ چاپلوسی کرنے والوں نے بذریعہ پیغامات’ خوش آمدیدی کمنٹس اور شیئرکر کے بھی اپنی حاضری لگوا لی ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں اکثر کو چیف آفیسر عثمان غنی جانتے تک نہیں’ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ ان سے اپنا تعلق جتا رہے ہیں، اسی طرح کی پوسٹیں نئے سی پی او فیصل آباد تنویر حسین کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر نظر آ رہی ہیں’ فیصل آباد میں جی حضوری کلچر حد سے تجاوز کرتا جا رہا ہے جس سے افسر شاہی مضبوط سے مضبوط تر اور عوام کمزور ہوتے جا رہے ہیں’ سوشل میڈیا پر خوشامدیوں نے سرکاری افسروں کی توجہ ان کی اصل ذمہ داریوں سے ہٹا دی ہے، خوشامد انسان کو شوخ پن’ غرور اور کھوکھلے پن کی طرف لے جاتی ہے، اس سے جتنا بھی بچا جا سکے، بچنا چاہیے، ہر خاص وعام کو یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ خوشامد کرنے والا انسان آپ کا دوست نہیں ہو سکتا بلکہ وہ آپ کا دشمن ہوتا ہے، اچھا دوست وہ ہوتا ہے جو آپ کی خامیوں سے آپ کو آگاہ کرے، خوشامد جھوٹی تعریف ہوتی ہے، جھوٹی تعریف انسان کو پھیلا دیتی ہے اور یہ برائی انسان کو شوخی اور غرور پن کی طرف لے جاتی ہے، ہمیں چاہیے کہ خوشامد سے بچیں کیونکہ یہ ایک اخلاقی بیماری اور معاشرتی ناسور ہے، خوشامد اصل میں جھوٹ کی ایک قسم ہے جس میں کسی شخص کی وہ خوبیاں بیان کی جاتی ہیں جو اس میں نہیں ہوتیں، خوشامد انسان کی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے اور غلامانہ ذہنیت کو فروغ دیتی ہے، دین اسلام میں بیجا تعریف اور خوشامد سے منع کیا گیا ہے، خوشامد کرنے والے اکثر لوگ اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، کسی انسان کے سامنے اسکی تعریفوں کے پُل باندھنا’ اس کے اندر تکبر کے بیج بو دیتا ہے اور جس میں تکبر آ گیا تو سمجھ لیجئے کہ اس کی دنیا وآخرت تباہ ہو گئی، تعریف کرنا بُرا نہیں مگر اس میں مبالغہ آرائی غلط ہے، چاپلوسی کرنیوالوں کے مقابلے میں ان لوگوں کو دیکھیں جو اپنی زندگی اعلیٰ اخلاقی اقدار پر عمل پیرا ہو کر گزارتے ہیں تو وہ ہر میدان میں کامیاب نظر آتے ہیں، انسان کو جینے کا حقیقی لطف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ خود داری کا حامل ہو، اپنے بل پر زندگی بسر کرنے کی بھرپور خواہش اور کوشش کو خودداری کہتے ہیں، کسی بھی ماحول میں ایسے لوگوں کو بہت آسانی سے تلاش کیا جا سکتا ہے جو اپنے بل پر جینے کو زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں’ خودداری ایسا وصف ہے، جس میں ایک دنیا سمائی ہوتی ہے، خود داری کے حقیقی مفہوم کا تعین بھی غور طلب ہے، اس وصف میں معانی کی ایک دنیا آباد ہے، خود داری انسان کو عزت ونفس اور غیرت مند ہونے کا سبق دیتی ہے اور جو غیرت مند ہوتے ہیں وہ اپنی نظر میں بلند رہنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں، اصل بلندی تو یہی ہے کہ انسان اپنی نظر میں نہ گرے، زمانہ ایسا بدلا کہ اب خود داری اور عزت نفس کی طرف دیکھنے والے کم اور خوشامدیوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے، خود داری انسان کو بہت سے معاملات میں غیر معمولی مقام عطا کرتی ہے مگر یہ بات اسی وقت سمجھ میں آ سکتی ہے جب انسان کی بہترین تربیت کی گئی ہو، مگر آج ایسی تربیت کا شدید فقدان ہے، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب ٹیکنالوجی کی ایسی بہتات نہیں تھی اور اسے بروئے کا رلا کر بنائے جانیوالے بہت سے آئٹمز بھی نہیں تھے اور وہ دور اخلاقی اقدار کی پاسداری کا دور تھا مگر آج سوشل میڈیا کے بے دریغ اور غلط استعمال نے انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے، ٹیکنالوجی کا درست استعمال کیا جائے تو یہ نہایت مفید ہے، سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کرنیوالے بھی اسے فوائد کا باعث بنا رہے ہیں، اﷲ کرے ہم اپنے طرز عمل پر غور کریں اور جی حضوری کے کلچر کو چھوڑ کر خود داری پر عمل پیرا ہوں، یقینی طور پر اسی میں ہماری بہتری اور کامیابی ہے۔




