فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر) ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان علامہ عبد الرشید حجازی اگر حکمران ملک سے انتہا پسندی ، فرقہ واریت اور دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے طرز حکمرانی کو اپنانا ہوگا ۔ مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم خلیفہ دوئم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی دینی ، ملی ، سیاسی وسماجی ، قرآن وسنت کی اشاعت اور اسلامی حکومت کے پھیلا کے سلسلہ میں دی جانے والی قربانیاں ناقابل فراموش بلکہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں محرم الحرام میں بین المسالک رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کا پرچار ہم سب کی قومی و دینی ذمہ داری ہے ۔ سرپرست اعلی مرکزیہ پنجاب سید سبطین شاہ نقوی ، ناظم اعلی مرکزیہ پنجاب حافظ محمد یونس آزاد ، خالد محمود اعظم آبادی ، قاری محمد حنیف ربانی آف کامونکی ، قاری احمد حسن ساجد ، پروفیسر عبد الرزاق ساجد ، مولانا عبد المنان راسخ ، پروفیسر ڈاکٹر حافظ مسعود قاسم ، مہر محمد عبداللہ ، قاری محمد ارشد ، مولانا بہادر علی سیف ، قاری بشیر احمد عزیزی ، مولانا محمد اشرف جاوید و دیگر نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کی مناسبت سے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں مقام و مرتبہ ، شان ، قدر و قیمت ،اجرو ثواب کے لحاظ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد دوسری بڑی شخصیت ہے مگر کارکردگی کے لحاظ سے ، اسلام کی خدمت کے لحاظ سے ، اسلامی حکومت کی تاسیس کے لحاظ سے ، اسلامی تعلیمات کی نشر واشاعت کے لحاظ سے ، قرآن وسنت کی خدمت کے لحاظ سے اور دنیا بھر میں اسلام کے علم کو بلند کرنے کے لحاظ سے امام الانبیا علیہ السلام کے بعد پوری اسلامی تاریخ میں اگر سب سے بڑی کوئی شخصیت ہے تو وہ صرف اور صرف سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے ۔ اجر و ثواب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا زیادہ ہے لیکن اسلامی حکومت کے قیام اور پھیلا میں سب سے زیادہ کردار اگر کسی شخصیت نے ادا کیا ہے۔




