واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں منگل کو ایک ہفتے سے زائد کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہیں، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے کسی معاہدے کی امیدیں اس وقت کمزور پڑ گئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے ستمبر ڈیلیوری کے سودے 0013 GMT پر معمولی تبدیلی کے ساتھ 87.86 ڈالر فی بیرل پر رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 82.38 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہا۔دونوں اہم بینچ مارکس میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا اور قیمتیں 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، یہ اضافہ اس وقت ہوا جب صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ ممکنہ امن معاہدے کی شرائط کے جواب میں اپنے مطالبات پیش کیے، جن میں جنگوں، حملوں اور احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لیے ایران سے معاوضے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا مطالبہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی نوعیت پر دونوں فریقوں کے مقف میں واضح فرق نظر آ رہا ہے،ان کے مطابق گزشتہ ہفتے پیدا ہونے والی کچھ امیدیں اب ختم ہو رہی ہیں، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر دبا بڑھا ہے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بعد ازاں کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور امریکی فورسز نے اہم آبی گزرگاہ کو ایرانی بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا ہے۔علاقائی کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے جازان ریفائنری کو دوبارہ شروع کرنے کی تاریخ بھی مخر کر دی ہے، 4 لاکھ بیرل یومیہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی جازان ریفائنری اب 30 اگست کو دوبارہ شروع کیے جانے کا امکان ہے، یہ فیصلہ حوثیوں کی جانب سے اتوار کو تنصیب پر دو حملوں کے دعوے کے بعد سامنے آیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں توانائی کی ترسیل کو خطرات بدستور نمایاں ہیں، کسی بھی قسم کی عارضی پابندی یا مزید حملوں کے خدشے کے باعث انشورنس اخراجات میں اضافہ اور بحری جہازوں کے لیے طویل راستوں کا استعمال جاری رہ سکتا ہے، جس سے قلیل مدت میں توانائی کی عالمی سپلائی محدود رہنے کا امکان ہے۔بارکلیز کے تجزیہ کاروں کے مطابق 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی خالص برآمدات اوسطا 30 لاکھ بیرل یومیہ رہیں، جو اس سے پچھلے ہفتے کے 44 لاکھ بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔دریں اثنا، عراق نے ایشیائی خریداروں کے لیے ستمبر میں باسرا میڈیم خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت میں 2.50 ڈالر فی بیرل اضافہ کرتے ہوئے اسے عمان/دبئی کی اوسط قیمت کے مقابلے میں 4 ڈالر منفی مقرر کر دیا ہے۔




