درجہ چہارم ملازمین کی کمی،سکولوں میں اساتذہ صفائی کرنے پر مجبور

فیصل آباد (ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں میں درجہ چہارم کی آسامیوں میں کمی یا خاتمے کے باعث سکولوں میں صفائی ستھرائی سمیت دیگر غیر تدریسی امور کا بوجھ اساتذہ پر بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے۔ درجہ چہارم کے ملازمین کی عدم دستیابی کے باعث کئی سرکاری سکولوں میں صفائی، پودوں کی کانٹ چھانٹ، کلاس رومز اور سکول کی دیگر دیکھ بھال جیسے کام بھی اساتذہ کو انجام دینا پڑ رہے ہیں، جس سے ان کی تدریسی ذمہ داریاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔تعلیمی حلقوں کے مطابق اساتذہ کا بنیادی کام طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنا، ان کی تعلیمی و اخلاقی تربیت کرنا اور تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی ہے، جبکہ صفائی ستھرائی اور عمارت کی دیکھ بھال کے لیے معاون عملہ موجود ہونا ضروری ہے۔ اساتذہ کو مسلسل غیر تدریسی امور میں مصروف رکھنے سے نہ صرف تدریسی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی تعلیمی نظاموں میں طلبہ میں صفائی، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا شعور پیدا کرنے کے لیے انہیں عملی سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے، تاہم اس کا مقصد اساتذہ کی تدریسی ذمہ داریوں کو ختم کرنا نہیں۔ پنجاب میں صورتحال یہ ہے کہ اگر سکولوں میں طلبہ سے صفائی کروائی جائے تو بعض اوقات اس پر اساتذہ کو جواب دہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ دوسری جانب سکولوں میں معاون عملہ نہ ہونے کے باعث صفائی اور دیکھ بھال کی ذمہ داریاں بھی اساتذہ کے سپرد ہو جاتی ہیں۔اساتذہ اور تعلیمی حلقوں نے پنجاب حکومت اور محکمہ سکول ایجوکیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری سکولوں میں درجہ چہارم اور دیگر معاون عملے کی ضروریات کا ازسرنو جائزہ لے کر مناسب تعداد میں ملازمین فراہم کیے جائیں تاکہ اساتذہ کو غیر تدریسی ذمہ داریوں سے نجات مل سکے اور وہ اپنی تمام تر توجہ طلبہ کی تعلیم و تربیت پر مرکوز کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں