دریائے سوات میں سیاحوں کی ہلاکت ناقص حکمرانی کا نتیجہ ہے’عظمیٰ بخاری

لاہور (بیوروچیف) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا کے علاقے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا، جس میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد دریائے سوات میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر یہ واقعہ پنجاب میں پیش آتا تو یہاں کی حکومت فوری طور پر حرکت میں آتی، لیکن سوات میں متاثرہ خاندان کے افراد دو گھنٹے تک مدد کے منتظر رہے، ریسکیو کو بار بار کالز کی گئیں مگر کوئی نہ پہنچا۔وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا میں 12 سالہ طویل حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کے پی کے میں اربوں روپے کے منصوبوں کا دعویٰ کیا گیا، ایئر ایمبولینس کے اجراء کا اعلان 26 مئی 2024 کو ہوا، لیکن عملی میدان میں صفر ہے۔ دریا کے کنارے ہوٹلوں کی تعمیر، سیاسی بنیادوں پر ریسکیو 1122 میں بھرتیاں، اور وسائل کی عدم دستیابی کے بہانے عوام کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دریائے سوات کے کنارے ایک بھی موثر ریسکیو یا کنٹرول یونٹ نہیں بنایا گیا۔ نہ کشتیاں دی گئیں، نہ عملہ موجود ہے۔ سیاح بار بار حادثات کا شکار ہو رہے ہیں، مگر کوئی سبق حاصل نہیں کیا جا رہا۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اگر کہیں کتا کاٹنے کا واقعہ بھی ہوتا ہے تو وزیر اعلیٰ فوری نوٹس لیتی ہیں۔ جبکہ سوات میں اتنا بڑا سانحہ پیش آیا، اس وقت خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ اڈیالہ جیل کی ملازمت میں مصروف تھے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے فنڈز کا آڈٹ کیا جائے،دریائے سوات کے اردگرد بنائی گئی تجاوزات اور ہوٹلوں کی تعمیرات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ایئر ایمبولینس منصوبے اور ریسکیو سسٹم کی ناکامی کا سخت نوٹس لیا جائے۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ لوگ سیر و تفریح کے لیے جاتے ہیں، مرنے کے لیے نہیں۔ یہ حادثہ روکا جا سکتا تھا، یہ محض ایک آفت نہیں بلکہ ناقص حکمرانی کا نتیجہ ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب سانحہ سوات میں جاں بحق ہونے والے خاندان سے مکمل اظہار یکجہتی کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت ہوش کے ناخن لے، وگرنہ اگر حکومت نہیں چلا سکتے تو عوام کی بہتری کے لیے خود الگ ہو جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں