لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک )اگرچہ رواں سال پر جنگ و جدل کا سایہ رہا ہے لیکن دنیا کے پانچ ممالک ایسے ہیں جو بدستور سب سے پرامن ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ان ممالک کے مقامی باشندے بتاتے ہیں کہ ان کی پالیسیوں اور ثقافت نے کس طرح روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا ہے اور سکون و اطمینان کا احساس پیدا کیا ہے۔ 2025 میں امن کا خیال ہی اپنے آپ میں بڑی چیز ہے کیونکہ عالمی سطح پر کشیدگی بڑھ رہی ہیں، سرحدی سکیورٹی سخت ہو رہی ہے اور تجارتی تنازعات شدت پکڑ رہے ہیں۔اس کے باوجود کچھ ممالک اب بھی امن کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پر امن شہروں کی درجہ بندی کے لیے انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے تیار کردہ انڈیکس میں 23 پہلوں پر نظر رکھی گئی ہے، جن میں بیرونی تنازعات، فوجی اخراجات، دہشت گردی، قتل اور عوامی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں۔آئس لینڈ 2008 سے مسلسل پہلے نمبر پر ہے۔ یہ بدستور دنیا کا سب سے پرامن ملک ہے، جو تحفظ و سلامتی، تنازعات اور فوجی اخراجات کے تینوں اہم شعبوں میں سب سے آگے ہے۔آئرلینڈ اگرچہ 20ویں صدی کے اوآخر میں تنازعات کا شکار رہا، لیکن آج کا آئرلینڈ امن و سلامتی کو سب سے مقدم رکھتا ہے۔ اس نے ہر سال اپنی فوجی سرگرمیوں میں کمی لا کر نمایاں کامیابی حاصل کی اور ان ممالک میں شامل ہے جہاں گھریلو اور بین الاقوامی تنازعات سب سے کم ہیں۔ معاشرتی تحفظ اور سلامتی میں بھی یہ ٹاپ 10 ممالک میں ہے، جہاں جرائم اور تشدد کی شرح سب سے کم ہے۔اس سال نیوزی لینڈ دو درجے ترقی کر کے تیسرے نمبر پر آ گیا ہے جس کی وجہ سلامتی اور تحفظ کے شعبے میں بہتری کے ساتھ ساتھ مظاہروں اور دہشت گردی سے متعلق اثرات میں کمی ہے۔رواں سال آسٹریا ایک درجہ نیچے سرک گیا اور چوتھے نمبر پر آ گیا، مگر اب بھی تمام شعبوں میں اس کی کارکردگی بلند سطح پر ہے۔ آئرلینڈ کی طرح آسٹریا بھی آئینی طور پر غیرجانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے باعث وہ نیٹو جیسے فوجی اتحاد کا حصہ نہیں۔اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے سنگاپور اس سال بھی چھٹے نمبر پر ہے اور ٹاپ 10 میں شامل واحد ایشیائی ملک ہے (جاپان 12ویں اور ملیشیا 13ویں نمبر پر ہیں)۔ سلامتی اور تحفظ میں یہ خاص طور پر بلند درجے پر فائز ہے، حالانکہ فی کس آمدن کے لحاظ سے یہ فوجی اخراجات کے معاملے میں دنیا میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک صرف شمالی کوریا اور قطر سے پیچھے ہے۔




