رانا زاہد توصیف نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے پٹرولیم و سابق ضلعی ناظم رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لئے سسٹم میں تبدیلی ضروری ہے چہرے بدلنے کی بجائے نظام بدلنا ہو گا۔ انتظامی امور میں بہتری لانے کے لئے ہر ڈویژن کی سطح پر صوبہ کا قیام ضروری ہے فیصل آباد میں میٹرو بس منصوبہ پر 82ارب روپے ضائع کئے جا رہے ہیں حالانکہ اس رقم سے فیصل آباد کا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے اور نئے انڈر پاسز سمیت دیگر ترقیاتی و تعمیراتی پراجیکٹس کی تکمیل سے آنے والی نسلیں استفادہ کر سکتی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق ایم این اے طارق باجوہ ‘ سابق ایم پی اے زاہد محمود گورائیہ ‘ سابق تحصیل ناظم جھمرہ فواد چیمہ’ تاجر راہنماوحید خالق رامے سمیت سابق چیئرمینز ‘ ناظمین اور دیگر سیاسی و کاروباری شخصیات موجود تھیں۔ رانا زاہد توصیف نے کہا کہ اسلام آباد سے پہلے فیصل آباد ڈویژن کو صوبہ بنانا ضروری ہے کہ کیونکہ یہ شہر صنعت و تجارت اہمیت کا حامل ہے موجودہ وقت میں آبادی کے بڑھنے اور دیگر عوامل کے باعث مسائل میں بھی قدرے اضافہ ہوا ہے اور ڈویژن کی سطح پر حکومتوں کو بااختیار بنانے سے ملکی سطح پر خوشحالی اور تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوگا کیونکہ نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل، کرپشن، بے ضابطگیوں کے خاتمہ کے لیے ہر ڈویژن کی سطح پر صوبہ کا قیام ضروری ہے۔ المیہ یہ ہے پاکستان میں گزشتہ 80 برس سے رائج نظام انتہائی فرسودہ ہو چکا ہے اور معاشرہ کے ایک عام آدمی کے لیے سستے انصاف کا حصول ناممکن ہو چکا ہے۔ نیز ملکی مسائل میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ اسلام آباد کی وفاقی یا لاہور میں صوبائی گورنمنٹ کو کیا علم ہے کہ فیصل آباد یا دیگر شہروں کو کیا مسائل درپیش ہیں۔ میرے خیال کے مطابق نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے اور باہمی مشاورت سے یہ اہم معاملہ حل ہونا چاہیے کیونکہ جہاں ایک طرف ہر ڈویژن کی سطح پر چھوٹے صوبوں کے قیام سے سالہا سال سے رائج بادشاہت نظام کا خاتمہ ہوگا۔وہاں کمشنر کو چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کے اختیارات بھی مل جائیں گے اورفیصل آباد ڈویژن میں ہائی کورٹ بنچ کے قیام سے سستے انصاف کی فراہمی ممکن ہوگی جو کہ ڈویژن کے عوام کا حق ہے۔ اسی طرح فیصل آباد کے فنڈز فیصل آباد پر خرچ ہوں گے۔ دریں اثناء نئے سسٹم میں منتخب نمائندوں میں عوامی مسائل کے حوالہ سے کارکردگی میں سبقت لے جانے کی روایت پیدا ہو گی۔ علاوہ ازیں متعدد ترقیاتی، تعمیراتی پراجیکٹس کی تکمیل سے خوشحالی آئے گی اور بدعنوانی کا بتدریج خاتمہ ہوگا۔ لہٰذا نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بعض سیاسی جماعتوں میں پائے جانے والے خدشات اور الہام کا خاتمہ ضروری ہے۔ کیونکہ اگر علاقائی پسماندگی کا خاتمہ کرنا ہے۔ تو پھر ہر ڈویژن کی سطح پر نئے صوبے بنانا ہوں گے۔نئے سسٹم میںمنتخب نمائندوں میں کارکردگی کے حوالہ سے سبقت لے جانے کی ن روایت کا آغاز ہو گا اور علاقائی پسماندگی کا خاتمہ ہوگا، لہٰذا نئے صوبوں کے قیام کے حوالہ سے بعض سیاسی جماعتوں میں پائے جانے والے خدشات اور ابہام کا خاتمہ ضروری ہے۔ سابق تحصیل ناظم جھمرہ فواد چیمہ ‘وحید خالق رامے ‘زاہد محمود گورائیہ ودیگر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ رانا زاہد توصیف نئے صوبوں کے مطالبات کے ضمن میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئے ہیں فیصل آباد تاحال ہائی کورٹ بنچ اور دیگر سہولیات سے محروم ہے لہذا ضروری ہے کہ فیصل آباد کو صوبہ کا درجہ دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں