ریلوے کی بحالی کیلئے وسائل کی فراہمی ،موثر نگرانی ناگزیر ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پریم یونین کے صدر شیخ محمد انور، سیکرٹری جنرل خیر محمد تونیو، چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری اور ڈپٹی چیف آرگنائزر جنید خرم نے اپنے مشترکہ بیان میں ملتان کے قریب رحمان بابا ٹرین حادثہ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کی تباہی کا حل نجکاری نہیں بلکہ بنیادی اصلاحات، انتظامی بہتری، ضروری وسائل کی فراہمی اور عملے کی شدید کمی کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عملے کی قلت، ضروری پرزہ جات کی عدم فراہمی، ریلوے ٹریکس، کوچز، انجنوں اور پاور پلانٹس کی خستہ حالی حادثات کی اہم وجوہات میں شامل ہیں جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے جیسے اہم قومی ادارے کو نمائشی دوروں اور سوشل میڈیا پر تشہیری سرگرمیوں کے بجائے سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ آئے روز پیش آنے والے حادثات اور ادارے کی مسلسل زبوں حالی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں، ناکام پالیسیوں اور انتظامی حکمت عملی کا سنجیدہ جائزہ لیں اور ادارے کی بہتری کے لیے موثر فیصلے کریں۔ ریلوے کی بحالی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ اس مقصد کے لیے محض اعلانات کافی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر اصلاحات، میرٹ پر بھرتیاں، وسائل کی فراہمی اور موثر نگرانی ناگزیر ہے۔۔رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ ریلوے میں مستقل بنیادوں پر نئی بھرتیاں کی جائیں، خالی آسامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر پر کیا جائے، ٹریکس، کوچز اور انجنوں کی مرمت و دیکھ بھال بہتر بنائی جائے، ضروری پرزہ جات اور دیگر وسائل کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے اور ایم ایل ون (ML-1) منصوبے پر عملی پیش رفت کی جائے تاکہ ریلوے کے نظام کو محفوظ، موثر اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔پریم یونین کے رہنمائوں نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے پرزور اپیل کی کہ ریلوے میں پیش آنے والے حادثات اور ادارے کی ابتر صورتِ حال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلی سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے، جو حادثات کی وجوہات، انتظامی کمزوریوں اور حفاظتی انتظامات کا جامع جائزہ لے، ذمہ داری کا تعین کرے اور ریلوے کی بحالی کے لیے قابلِ عمل سفارشات پیش کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں