ریچارج ویلز کے ذریعے سالانہ11.4ملین گیلن پانی محفوظ رکھنے کا ہدف

لاہور (بیوروچیف) پنجاب کے شہری علاقوں میں زیرِ زمین آبی ذخائر کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح کے پیش نظر پانی کے بہتر اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے سمارٹ واٹر میٹرنگ کو فروغ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔لاہور میں سیکرٹری ہاسنگ نورالامین مینگل کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا، جس میں پانی کی بچت، واٹر میٹرنگ اور گراونڈ واٹر ریچارج سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔واسا حکام کے مطابق پنجاب میں 70گراونڈ واٹر ریچارج ویلز پر کام جاری ہے، جن میں سے 20مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور دیگر اضلاع میں واٹر میٹرنگ کے منصوبے بھی جلد مکمل کیے جا ئیں گے۔سیکرٹری ہاسنگ نورالامین مینگل نے کہا کہ آٹومیٹک واٹر میٹرنگ سے خودکار ریڈنگ کا نظام متعارف کروایا جاسکے گا، جبکہ عملے کے کسی فرد کی میٹر ریڈنگ میں مداخلت نہیں ہوگی۔ میٹرنگ کا نظام مکمل طور پر شفاف اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا۔ سیکرٹری ہاسنگ نے مختلف واٹر میٹرز کے ماڈلز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ واسا حکام کے مطابق صوبہ بھر میں 15لاکھ 9ہزار 288واٹر میٹرز کی ضرورت ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک سے نسبتا کم قیمت پر واٹر میٹرز فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔اجلاس میں دیگر ممالک میں پانی کی بچت سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری ہاسنگ نے گراونڈ واٹر ریچارج ویلز کا دائرہ کار بڑھانے پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔پنجاب کے مختلف اضلاع میں مرحلہ وار واٹر ریچارج ویلز کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔ لاہور میں40، ملتان میں 25اور فیصل آباد میں 5گراونڈ واٹر ریچارج ویلز کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔واسا حکام کے مطابق ریچارج ویلز کے ذریعے سالانہ 11.4 ملین گیلن پانی محفوظ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ واٹر میٹرنگ اور رین واٹر ہارویسٹنگ کو بھی جامع منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔واسا حکام کے مطابق 1970 سے 2020 تک لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ تقریبا 3 فٹ تک گرتی رہی، تاہم صرف ٹیوب ویلز کے اوقاتِ کار میں تبدیلی سے پانی کی سطح میں سالانہ کمی ایک فٹ تک آگئی۔نورالامین مینگل نے ہدایت کی کہ شہریوں کو پانی کی بچت اور آبی ذخائر کے تحفظ سے متعلق بھرپور آگاہی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر میں یکساں ترقیاتی منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں