سرگودہا (بیورو چیف) وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے سرگودہا شہر کے سیوریج نظام کی بہتری کے لیے منظور کیے گئے 14 ارب روپے کے میگا پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شہر کے دیرینہ سیوریج مسائل کا مستقل حل فراہم کرنا ہے، جس کے لیے مختلف مقامات پر عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کمشنر سرگودہا ڈویژن جہانزیب اعوان نے واسا کی جانب سے بارشی پانی کے ذخیرے کے لیے کمپنی باغ اور رحمت اللعالمین پارک میں تعمیر کیے جانے والے انڈر گرائونڈ واٹر ٹینکس کی سائٹس کا موقع پر جا کر جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایم ڈی واسا ابو بکر عمر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی باغ، رحمت اللعالمین پارک اور بلاک نمبر 32 میں تین زیرِ زمین سٹوریج ٹینکس تعمیر کیے جا رہے ہیں، جو 30 اپریل تک مکمل کر لیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی باغ میں ڈیڑھ ملین گیلن جبکہ رحمت اللعالمین پارک میں ایک ملین گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔ ان ٹینکس سے بارش کے پانی کو محفوظ بنا کر سیوریج نظام پر دباؤ کم کرنے اور نکاسی آب کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ کمشنر جہانزیب اعوان نے کہا کہ سیوریج میگا پراجیکٹ سرگودہا شہر کے لیے نہایت اہم ہے اور اس کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ شہریوں کو دیرپا ریلیف مل سکے۔بعد ازاں کمشنر سرگودہا نے بلاک نمبر ایکس، نیو سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع پارک کی بحالی کے جاری کاموں کا بھی معائنہ کیا۔ ایم ڈی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی محمد ارشد نے بریفنگ میں بتایا کہ پارک میں جاری تعمیراتی اور بحالی کا کام آئندہ دو روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔ پارک میں نئی کنوپیاں نصب کی جا رہی ہیں، لائٹس فعال کی جا رہی ہیں اور جاگنگ ٹریک کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ کمشنر سرگودہا نے کہا کہ شہر کے پارکس اور سبزہ زار شہریوں کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی حفاظت اور دیکھ بھال ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون سے یہ پارکس دوبارہ خوبصورت باغات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے کمشنر سے ملاقات کے دوران پارکس کی بحالی پر ان کی کاوشوں کو سراہا اور خراجِ تحسین پیش کیا۔ کمشنر نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پارکس کو اپنا سمجھ کر سنبھالیں اور بچوں کو بھی ان کی حفاظت کی ترغیب دیں۔ اس موقع پر چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ماجد بن احمد سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔




