سعودیہ میں مزید 22ہزار غیرقانونی تارکین گرفتار

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی حکام نے ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزی پر مزید21ہزار 997 غیر قانونی تارکین کو گرفتار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 7سے 13اگست کے درمیان مجموعی طور پر 13ہزار 434افراد کو اقامہ قانون، 4ہزار 697کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 3ہزار 866تارکین کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ۔مملکت میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 787افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، ان میں سے 35فیصد یمنی، 64فیصد ایتھوپین اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں 27 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 18 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ 25 ہزار 439غیر قانونی تارکین کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان میں 22 ہزار 837 مرد اور 2 ہزار602 خواتین ہیں۔ ان میں 18 ہزار 149 کے سفری انتظامات کیلیے سفارتخانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کیا گیا جبکہ 2 ہزار 973 سفری دستاویز حاصل کرچکے، 12 ہزار 861 افراد کو مملکت سے بے دخل کیا گیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانونا جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں