قیمتی زندگی بچانے کیلئے ہیلمٹ پہنیں

والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین تعلیم وتربیت کے ذریعے انہیں معاشرے کا مفید رکن بنائیں، بے شک! مثالی تربیت والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے ایک بہترین اور گرانقدر تحفہ ہے۔ جو ماں باپ اپنی اولاد پر مکمل توجہ دیں اور ان کی تربیت کا خاص رکھتے ہوئے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ان کے بچے اپنے کردار وعمل سے ہر کسی کی آنکھ کا تارا بن جاتے ہیں اور معاشرے کو جنت نظیر بنانے میں بڑے مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس وقت اپنے بچوں کو جس بات پر عمل کرنیکا پابند بنانے کی ضرورت ہے وہ ٹریفک قوانین کی پاسداری ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے نوجوان کی اکثریت ٹریفک قوانین کی پاسداری نہیں کرتی اور وہ قوانین جو ان کی زندگی بچانے کیلئے بنائے گئے ہیں ان پر بھی عمل نہیں کیا جاتا لہٰذا موٹرسائیکل سوار افراد کو اپنی زندگی بچانے کیلئے ہیلمٹ کا لازمی استعمال کرنا چاہیے۔ ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ زیادہ تر اموات ہیڈانجری کے باعث ہوتی ہیں مگر اس کے باوجود والدین کا اپنے بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کے دوران ہیلمٹ پہننے کا پابند نہ بنانا لمحہ فکریہ ہے، ہیلمٹ کے عدم استعمال کے علاوہ تیز رفتاری’ ون وے کی خلاف ورزی اور ون ویلنگ ٹریفک حادثات میں اموات کی بڑی وجوہات ہیں، حکومتی سطح پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرنے اور ہیلمٹ کے استعمال بارے خصوصی مہم چلائی جاتی ہے، ہیلمٹ کے عدم استعمال پر بھاری جرمانے عائد کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد لوگوں کو ہیلمٹ کے استعمال کا پابند بنانا اور ان کی جانوں کو درپیش خطرات کا خاتمہ کرنا ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ موٹرسائیکل کی قیمت ایک لاکھ سے کم نہیں ہے ہم ایک لاکھ’ دو لاکھ اور تین لاکھ روپے سے زائد قیمت ادا کر کے بھی موٹرسائیکل خریدتے ہیں مگر اپنی جان بچانے کے لیے 10ہزار روپے کا معیاری ہیلمٹ خریدنا گوارہ نہیں کرتے، ستم ظریفی دیکھئے کہ اکثر لوگ غیر معیاری ہیلمٹ خریدتے ہیں جس کا مقصد کسی حادثہ میں ہیڈانجری سے بچنا نہیں ہوتا بلکہ یہ غیر معیاری ہیلمٹ صرف اور صرف ٹریفک چالانوں سے بچنے کے لیے خریدے اور پہنے جاتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ موٹرسائیکل سوار صرف انہیں جگہوں پر ہیلمٹ پہنتے ہیں جہاں پر ٹریفک وارڈنز موجود ہوں یا جہاں پر سیف سٹی اتھارٹی نے کیمرے نصب کر رکھے ہوں، جونہی موٹرسائیکل سوار ان جگہوں سے گزر جائیں وہ ہیلمٹ کو سر سے اتار کر اپنے بازو یا موٹرسائیکل کے ساتھ لٹکا لیتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہیلمٹ کا استعمال ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرنے یا کسی حادثہ کی صورت میں جان لیوا ہیڈانجری سے بچنے کیلئے نہیں بلکہ محض ٹریفک چالانوں سے بچنے کیلئے کرتے ہیں، حالانکہ اس حقیقت سے ہر شخص آگاہ ہے کہ موٹرسائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کا استعمال نہ صرف ٹریفک قوانین کی پابندی ہے بلکہ حادثات کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں کو سر کی شدید چوٹوں سے بچانے کا موثر ذریعہ ہے۔ اس لیے ہیلمٹ نہ پہننے والے موٹرسائیکل سواروں کو ٹریفک پولیس کی طرف سے جرمانے اور ای چالان بھی کئے جاتے ہیں، زندگی انمول ہے اس لئے قانون کی پابندی لازمی ہے، ہیلمٹ پہننے کا مقصد موٹرسائیکل سواروں کے سفر کو محفوظ بنانا ہے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد انسانی جان ومال کے تحفظ’ سڑکوں پر نظم وضبط برقرار رکھنے اور حادثات میں کمی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ ٹریفک قوانین کا بنیادی مقصد لوگوں کی حفاظت اور حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنا ہے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سے شہروں میں ٹریفک جام ہونا کم ہوتا ہے اور سفر آسان ہو جاتا ہے، تیز رفتاری کا جنون بھی حادثات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے، کم عمر بچوں کو ڈرائیونگ سے روکنا بھی بیحد ضروری ہے، شہریوں کی حفاظت اسی میں ہے کہ وہ ٹریفک وارڈنز سے تعاون کریں اور تمام اصولوں کی پابندی کو اپنا معمول بنائیں، والدین اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کا فریضہ احسن طریقہ سے سرانجام دیں تو ان کے بچے بڑے ہو کر ہر میدان میں کامیاب وکامران ہوتے ہیں، بچپن کی عمر صاف کاغذ کی طرح ہوتی ہے جس پر جو چاہے لکھا جا سکتا ہے، اس زمانے میں والدین کا رویہ، ان کے الفاظ اور ان کا مزاج بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، ایسے میں اگر والدین تربیت میں سنجیدگی نہ دکھائیں تو بچوں کی شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہے، یہ باتیں بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جو والدین سخت مزاج ہوتے ہیں اور بچوں کو آزادی دینے کے قائل نہیں ہوتے ان کے انداز پرورش کے کچھ فوائد تو ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہیں، ایسے بچے اگرچہ نظم وضبط کو جلدی قبول کر لیتے ہیں لیکن ان میں خود اعتمادی کا فقدان بھی پایا جاتا ہے اور یہ بڑے ہو کر کمزور شخصیت کے مالک ثابت ہو سکتے ہیں’ جو والدین بچوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہیں، ان کے ساتھ تعلق مضبوط بناتے ہیں، اگر بچوں کی رائے کمزور ہو تو اس کی وضاحت کر دیتے ہیں ایسے بچے خود اعتماد ہوتے ہیں اور یہ صلاحیت کے لحاظ سے بہترین ہوتے ہیں، والدین کو بچوں سے ہرگز لاپرواہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس طرح اصولوں کے بغیر زندگی گزارنے سے بچوں میں نظم وضبط کا فقدان پیدا ہو جاتا ہے، جو والدین بچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دیتے ان کے بچوں کو اپنی ذات ادھوری لگتی ہے، وہ خود اعتمادی سے محروم ہوتے ہیں، زندگی ایک طویل سفر ہے اور بچے تو ہمارا مستقبل ہیں لہٰذا ان کی زندگیوں کو خوشگوار بنانے کے لیے والدین کو ان کی تربیت پر مکمل توجہ دینا چاہیے، اس وقت سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی عام سی بات بن چکی ہے، لہٰذا تمام والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ٹریفک قوانین کی پاسداری بالخصوص ہیلمٹ کے لیے لازمی استعمال کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ ان کی انمول زندگیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں