سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر رپورٹ تیار

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستانی تھنک ٹینک جناح انسٹیٹیوٹ نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی پر رپورٹ تیار کرلی، رپورٹ کا عنوان پانی اور خوں اکٹھا نہیں بہہ سکتا رکھا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت پاکستان کا پانی مکمل بند نہیں کر سکتا، 3مغربی دریائوں کا رخ موڑنے کیلئے 30ڈیمز جتنی گنجائش درکار ہے، اتنی بڑی تعمیرات کے لیے درکار وقت، لاگت اور زمین دستیاب نہیں، دریاں کا بہا موڑنے کی کوشش بھارتی علاقوں میں سیلاب کا باعث بن سکتی ہے، موجودہ بھارتی ڈیم صرف پن بجلی کیلئے بنائے گئے ہیں۔تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی آبی جارحیت کا چین سمیت دیگر ممالک پر منفی اثر پڑے گا، بھارت کا یکطرفہ اقدام عالمی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگا، آبی معاہدے کی معطلی پر عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی آبی جارحیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مزید خراب کرسکتی ہے، نیپال، بھوٹان اور بنگلا دیش بھی بھارتی رویے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، دریاں کے پانی کو ہتھیار بنانا بھارت کی سفارتی ساکھ کو نقصان دے گا، عالمی برادری بھارت کے اس عمل کی مذمت کرے گی۔پاکستان میں پانی کی غیر یقینی صورتحال معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں