کراچی (بیوروچیف) عالمی مارکیٹ میں منگل کے روز سونے کی قیمتوں میں 1.1فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کی بڑھتی ہوئی توقعات بتائی جا رہی ہیں۔ اسپاٹ گولڈ کی قیمت 4,142.61 ڈالر فی اونس تک گر گئی، جبکہ اگست کی ترسیل کے لیے امریکی سونے کے فیوچرز 1 فیصد کمی کے بعد 4,160.20 ڈالر پر آ گئے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق ڈالر گزشتہ ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے سونا مہنگا ہو گیا ہے، اور طلب میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ کی سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ سونا پہلے تیل کی قیمتوں میں کمی سے کچھ سہارا حاصل کر رہا تھا، لیکن اب ڈالر کی مضبوطی اس پر دبا ڈال رہی ہے کیونکہ فیڈ کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات بڑھ رہی ہیں۔ عالمی سطح پر امریکا نے ایران پر عائد پابندیاں 60 دن کے لیے نرم کر دی ہیں، جس کا اعلان پیر کے روز کیا گیا۔ یہ اقدام ایران اور امریکا کے درمیان ابتدائی امن مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ لبنان میں بھی جنگ بندی کے بعد لڑائی میں کمی رپورٹ کی گئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات نے حتمی امن معاہدے کی بنیاد رکھ دی ہے، تاہم ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کوئی باضابطہ بات چیت شروع کی ہے۔ شکاگو فیڈ کے صدر آسٹن گولزبی نے کہا ہے کہ لیبر مارکیٹ مستحکم ہے اور وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا مہنگائی بلند سطح پر برقرار رہے گی یا وقت کے ساتھ کم ہو جائے گی۔ مارکیٹ میں اب 88 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دسمبر میں شرحِ سود میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو گزشتہ ہفتے فیڈ اجلاس سے قبل 61 فیصد تھا۔ سرمایہ کار اب امریکی افراطِ زر کے اہم اشاریے پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (PCE) کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو آئندہ مالی پالیسی کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گا۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، جس میں چاندی 3.3 فیصد، پلاٹینم 1.9 فیصد اور پیلیڈیم 1.8 فیصد تک نیچے آ گئیں۔




