واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ اس سے ایک روز قبل سونا2فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ اوپر گیا تھا، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شرح سود کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بغیر منافع دینے والے اثاثے سونے پر دبا ڈالا۔اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,035.67 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچر (اگست ڈیلیوری) 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 4,042.20 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔گزشتہ روز امریکی صارف قیمتوں کے اعداد و شمار میں توقع سے زیادہ بہتری کے بعد سونے کی قیمت میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا اور یہ 4,100.49 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا تھا،رپورٹ کے مطابق جون میں توانائی کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی کی رفتار میں کمی آئی۔تاہم، تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ہوا، جس کی وجہ ایران سے متعلق امریکی اقدامات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے، ماہرین کے مطابق خام تیل کی بلند قیمتیں دوبارہ مہنگائی بڑھنے کے خدشات پیدا کر سکتی ہیں، جس سے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے بلند شرح سود برقرار رکھنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق مارکیٹ اب مہنگائی کے اعداد و شمار سے آگے دیکھ رہی ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ سونے کی قیمتوں پر دبا ڈال رہا ہے۔امریکی فیڈرل ریزرو کے اعلی حکام نے جون کی کمزور مہنگائی رپورٹ کا خیرمقدم کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ شرح سود میں تبدیلی سے قبل مزید اعداد و شمار کا انتظار ضروری ہے۔سرمایہ کار اب پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI)کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو مہنگائی کے رجحان کے بارے میں مزید اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق ستمبر کے اجلاس میں شرح سود میں اضافے کے امکان کو مارکیٹ نے 58 فیصد تک کم کر دیا ہے، جبکہ اس رپورٹ سے قبل یہ امکان 76 فیصد تھا۔دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 58.48 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ پلاٹینم 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,635.56 ڈالر اور پیلیڈیم 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,307.11 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔




