ٹھیکریوالہ (رانا شاہد مقرب) پنجاب بھر کے سرکاری سکولز کے سربراہان نے حکومت پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) 2025-26کے تحت جاری تعمیراتی منصوبوں کے حوالے سے نئی ٹینڈر پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات اور سیکرٹری اسکول ایجوکیشن مدثر ریاض ملک سے فوری مداخلت کی اپیل کر دی۔تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کے تحت گورنمنٹ سکولز میں کمروں، چار دیواریوں اور دیگر تعمیراتی و مرمتی منصوبوں کی تکمیل کی ذمہ داری ابتدائی طور پر متعلقہ ہیڈ ٹیچرز اور سکول مینجمنٹ کونسلز کو سونپی تھی، جس پر بیشتر اداروں میں تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور کئی سکولز میں 50فیصد تک کام مکمل بھی ہو چکا ہے۔سکولز سربراہان کے مطابق تعمیراتی کام کے آغاز پر مقامی مستریوں اور ٹھیکیداروں کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کیے گئے، جبکہ بعض اسکولوں میں تعمیراتی رفتار برقرار رکھنے کیلئے ہیڈ ٹیچرز نے ذاتی جیب سے بھی اخراجات برداشت کیے تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں۔ جن سکولز کو بیک وقت کمرہ اور چار دیواری کی منظوری ملی، وہاں ٹھیکیداروں نے پہلے کمروں کی تعمیر شروع کی جبکہ بعض مقامات پر چار دیواری کی تکمیل کیلئے کمروں کے فنڈز بھی استعمال کیے گئے، اس امید پر کہ بعد میں بقایا فنڈز جاری ہونے پر دونوں منصوبے مکمل کر لیے جائیں گے۔ اب نئی ٹینڈر پالیسی کے باعث اسکول سربراہان شدید مالی اور قانونی مشکلات کا شکار ہیں۔اساتذہ تنظیموں اور اسکول سربراہان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ مرحلے پر نئے ٹینڈر جاری کیے گئے تو پہلے سے کیے گئے مقامی معاہدے ختم کرنا ممکن نہیں رہے گا، جس سے نہ صرف مالی نقصان ہوگا بلکہ قانونی چارہ جوئی کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جو ترقیاتی منصوبے 50 فیصد یا اس سے زائد مکمل ہو چکے ہیں انہیں موجودہ طریقہ کار یعنی اسکول مینجمنٹ کونسل کی نگرانی میں ہی مکمل کرنے کی اجازت دی جائے، جبکہ نئی ٹینڈر پالیسی کو آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام سے نافذ کیا جائے۔مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ تعمیراتی میٹریل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر فنڈز میں اضافہ کیا جائے اور ٹیکسز کی مد میں اضافی رقم بھی فراہم کی جائے تاکہ ترقیاتی کام بلا تعطل مکمل کیے جا سکیں۔اساتذہ کمیونٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت پنجاب زمینی حقائق اور اسکول سربراہان کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور مثبت فیصلے کرے گی۔




