لاہور (بیوروچیف) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں مری اور کوٹلی ستیاں کے سیاحتی، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں مری کے علاقے کوٹلی ستیاں میں پنجاب کے پہلے سکائی گلاس برج پراجیکٹ کی اصولی منظوری دی گئی، منصوبے کا مقصد سیاحت کے فروغ اور علاقے کو جدید سیاحتی مقام میں تبدیل کرنا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے سدباب کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مڈ فلو ڈان ہل ایفیکٹ کے تدارک کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔مزید برآں چٹا موڑ، دریا گلی، بانسرہ گلی، نمل جھیکا گلی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ افراد کی بحالی اور امداد کے اقدامات کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں مری میں تین نئے ہاسپیٹلٹی زونز کے قیام کی بھی منظوری دی گئی جو شوالا، سوزو اور برروری کے علاقوں میں قائم کیے جائیں گے،ان زونز میں نجی شعبے کے اشتراک سے فائیو اسٹار معیار کے ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے۔مری بحالی پراجیکٹ کے لیے ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ تجاوزات کی زد میں آنے والی عمارتوں کے ملبے کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔اجلاس میں مری ریچ بل روڈ اور دیگر سڑکوں کی 10 فٹ توسیع اور ایک ماہ کے اندر مری گلاس ٹرین منصوبے کے تعمیراتی کام کے آغاز کا ہدف مقرر کیا گیا۔سیاحتی ترقی کے حوالے سے انگوری روڈ پارک، ایم آئی ٹی پارک اور اریاڑی پارک کوٹلی ستیاں کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا، بانسرہ گلی میں زولوجیکل گارڈن، ایکو زون، برج کراسنگ اور جدید کانفرنس روم قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے بیئر ہائوس، ٹائیگر ہائوس اور برڈ ایویری کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا، چیوڑاہل پر مری کا پہلا اسٹیٹ آف دی آرٹ گلیمپنگ پوڈ ویلج قائم کیا جائے گا جس کا انتظام نجی شعبے کے سپرد ہوگا،اسی مقام پر پیراگلائیڈنگ کلب پراجیکٹ کی بھی منظوری دی گئی۔کوٹلی ستیاں چیئر لفٹ منصوبے، پنجاب ہائوس اور فارسٹ ریسٹ ہائوس سمیت دیگر منصوبوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ضلع مری میں دریا جہلم سے بلک واٹر سپلائی اسکیم کی فزیبلٹی رپورٹ 30 اپریل تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی جبکہ مری اور کوٹلی ستیاں میں 1876 گھروں میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کے کامیاب نفاذ کا بھی ذکر کیا گیا۔اس کے علاوہ پنجاب میں پہلی فیسلیٹی مینجمنٹ یونٹ کے قیام کی اصولی منظوری دی گئی، جو صوبے بھر میں پنجاب ہائوس اور دیگر سرکاری عمارتوں کی تعمیر و مرمت اور انتظامی امور سنبھالے گا۔




