فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) کمشنر فیصل آباد مسرت جبیں سے خاتون صوبائی محتسب ڈاکٹر نجمہ افضل نے ملاقات کی۔پرسنل سٹاف آفیسر حافظ فاروق انور،سپرنٹنڈنٹ انیلہ ارشد بھی موجود تھیں۔ملاقات میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا اور کمشنر نے خاتون صوبائی محتسب کی نشاندہی پرڈویژن بھر کے ڈپٹی کمشنرز سمیت ڈویژنل وضلعی محکموں میں کوڈ آف کنڈکٹ بارے آگاہی سٹینڈیز آویزاں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔علاوہ ازیں محکموں کے فوکل پرسنز کی آگاہی کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کے لئے جلد سیشن کمشنر آفس میں منعقد ہوگا۔دریں اثنا خاتون صوبائی محتسب نے دورہ فیصل آبادکے دوران ریجنل آفس کا دورہ کیا اور سٹاف سے ملاقات کی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون صوبائی محتسب نے فیصل آباد میں ہراسمنٹ ایکٹ کے نفاذ کے حوالے سے بریفنگ دی اور بتایا کہ پنجاب کے9۔اضلاع میں صوبائی محتسب کے سب دفاتر قائم ہیں۔انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو جائے ملازمت پر محفوظ اور پرسکون ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔تمام سرکاری و نجی اداروں میں ہراسمنٹ انکوائری کمیٹیوں کی تشکیل لازمی قرار دی گئی ہے اورکمیٹیوں کی کارکردگی کو باقاعدہ مانیٹر کیا جائے گا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت اب تک 1400کے قریب کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 1305میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نوازشریف ہراسمنٹ کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں اورخواتین بغیر کسی خوف و خطر کے لاہور ہیڈ آفس یا ضلعی دفاتر میں اپنی شکایات درج کرا سکتی ہیں۔ ہراسمنٹ ایکٹ سے متعلق شعور بیدار کرنے کے لئے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں آگاہی سیشنز بھی منعقد کئے جائیں گے۔




