ملتان، بہاولپور ، لاہور(بیوروچیف) پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، تازہ واقعات میں سیلاب متاثرین کی کشتیاں الٹ گئی ہیں جس سے کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 9 لاپتہ ہو گئے، 21 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ پر فصلوں کا نقصان ہوا ہے۔خان بیلہ اور موہانہ سندیلہ میں سیلاب متاثرین کی کشتیاں الٹی ہیں، موہانہ سندیلہ میں کشتی الٹنے سے چار سالہ بچہ جاں بحق ہوا، 18 افراد کو زندہ نکال لیا گیا جبکہ 9 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن ہو رہا ہے۔خان بیلہ میں سیلاب متاثرین کی الٹنے والی کشتی میں 20 افراد سوار تھے جن میں سے 2 ماہ کا بچہ ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ادھر مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے لتی ماڑی میں بھی سیلاب متاثرین کی کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ریسکیو حکام کے مطابق کشتی میں 10 سے زائد افراد سوار تھے، اسی دوران ایک شخص نے کشتی میں لٹکنے کی کوشش کی جس سے کشتی توازن کھو بیٹھی اور الٹ گئی، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔دوسری طرف بہاولنگر کی بستی کلر والی کے مقام پر دریائے ستلج میں 12 سالہ بچہ ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔علاوہ ازیں ترنڈہ محمد پناہ کے علاقے نور والا میں کشتی حادثہ میں جاں بحق افراد کی تعداد مزید 2 لاشیں ملنے کے بعد 8 ہو گئی، ڈوبنے والے ایک شخص کی لاش کی تلاش تاحال جاری ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 3 بچے، 4 خواتین اور ایک مرد شامل ہے۔سیلاب سے ملتان کے قریب جلال پور شہر کو بچانے کے لیے اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈال دیا گیا، حکام کے مطابق جلال پور شہر کو بچانے کے لیے بنائے گئے عارضی بند پر پانی کا دبا کم نہیں ہو رہا تھا۔ رحیم یارخان کی تحصیل لیاقت پور نوروالا میں سیلاب نے تباہی مچا دی۔لیاقت پور نوروالا میں کئی دہائیوں سے خشک دریائی علاقے میں دریائے چناب واپس آیا تو افراتفری مچ گئی، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر مکینوں کا انخلا کیا گیا۔علاقے میں ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کی جارہی ہے، اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، مال مویشی اور مالی نقصان سے بچانا ہے۔پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے اور یہاں پانی کی سطح میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔صوبہ پنجاب میں فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی سطح چھ لاکھ 68 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے جو سمکہ چاچڑاں کی جانب بڑھ رہا ہے۔واضح رہے کہ اس مقام پر گزشتہ تین روز سے پانی کے اخراج میں کمی آ رہی تھی جو مگر گزشتہ رات سے پانی کی سطح پھر سے بلند ہورہی ہے۔اسی طرح دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر بھی سمکہ چاچڑاں کی جانب 2 لاکھ کیوسک کے قریب سیلابی ریلا بڑھ رہا تھا۔پنجاب کے بڑے دریا چناب میں تریموں بیراج کی صورتحال کی بات کی جائے تو وہاں گزشتہ تین روز کے دوران پانی کے اخراج میں کمی واقع ہوئی ہے، اس وقت تازہ ترین صورتحال میں ہیڈ پنجند کی جانب ایک لاکھ 88 ہزار کیوسک سے کچھ زیادہ کا ایک ریلا سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اب بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے جہاں پانی کی سطح اس وقت ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ تین روز سے مسلسل بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں سیلاب سے زرعی معیشت کو شدید جھٹکا، 21لاکھ 25ہزار 838ایکڑ زرعی رقبہ متاثر ہو گیا۔ کپاس کی 1لاکھ 10ہزار 850ایکڑ فصل پانی میں بہہ گئی، چاول کی 9لاکھ 70ہزار 929ایکڑ فصل زیرِ آب آگئی۔ مکئی کی 1لاکھ 86ہزار 419ایکڑ فصل برباد ہوگئی،گنے کی 2لاکھ 20ہزار 344ایکڑ فصل سیلاب سے تباہ ہوئی۔ سیلاب سے 4لاکھ 500ایکڑ پر چارے کی فصل کو بھی نقصان پہنچا، سبزیوں کی 1لاکھ 15ہزار 260ایکڑ فصل برباد ہوئی۔




